لندن میں حکام نے عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں فیشل ریکگنیشن کیمروں کے استعمال کا ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور امیگریشن قوانین پر موثر طریقے سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت وہ افراد بھی نگرانی کے دائرہ کار میں آ سکتے ہیں جن کے ویزا کی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن وہ تاحال برطانیہ میں مقیم ہیں۔ حکومتی سطح پر اس مقصد کے لیے امیگریشن انفورسمنٹ کے بجٹ کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت امیگریشن انفورسمنٹ کے عملے کی تعداد میں بھی 60 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا تاکہ نگرانی کے عمل کو مزید تیز اور وسیع کیا جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ افرادی قوت میں یہ اضافہ سیکیورٹی کے اہداف حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
نئی پالیسی کے خدوخال کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کو فیشل ریکگنیشن کی واچ لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال طے شدہ ضوابط کے تحت ہی کیا جائے گا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے اس حکومتی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا موقف ہے کہ عوامی مقامات پر اس طرح کی نگرانی سے شہریوں کی نجی زندگی اور انفرادی آزادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس وسیع پیمانے پر استعمال سے عوامی مقامات پر شہریوں کی نقل و حرکت پر غیر ضروری دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان خدشات کے باوجود حکومتی حلقے اس منصوبے کو سیکیورٹی کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت کیمروں کا نیٹ ورک خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے مراکز اور اہم عوامی مقامات پر نصب کیا جائے گا۔ اس اقدام سے مشتبہ افراد کی شناخت اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا سراغ لگانا آسان ہو جائے گا۔
برطانیہ میں امیگریشن کے معاملات پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، تاہم فیشل ریکگنیشن کا یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی تنصیب کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے نفاذ کے ساتھ ہی نگرانی کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کے تحفظ اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی سخت قوانین لاگو ہوں گے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو نگرانی کے اس نظام کے بارے میں مزید تفصیلات عوام کے سامنے لانی چاہئیں۔
یہ منصوبہ لندن کی سیکیورٹی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت اس اقدام کو امیگریشن کنٹرول کے لیے ایک موثر ذریعہ قرار دے رہی ہے۔




اپنی رائے دیں