امریکی ریاست ٹیکساس میں ہونے والے وسطی دور کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جیمز ٹلاریکو نے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ تاریخی کامیابی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھکا مانی جا رہی ہے۔
اس انتخابی معرکے میں جیمز ٹلاریکو نے ریپبلکن حریف کین پی کس ٹن کو شکست سے دوچار کیا۔ سن 1988 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے ٹیکساس میں سینیٹ کی نشست جیتی ہے۔
جیمز ٹلاریکو کا تعلق ایک سابق اسکول ٹیچر کے پس منظر سے ہے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران بڑھتی ہوئی مہنگائی کو اپنا مرکزی موضوع بنایا تھا۔ ان کے مقابلے میں کین پی کس ٹن کی مہم کو دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔
ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں نتائج سامنے آنے پر حامیوں میں جشن کا ماحول دیکھا گیا اور لوگوں نے اس کامیابی کو غیر معمولی قرار دیا۔ اس موقع پر جیمز ٹلاریکو نے اپنے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اسے عوامی طاقت کی جیت قرار دیا۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کوارڈریکوس ڈرِسکل نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج محض ایک اشارہ نہیں بلکہ ایک طوفان کی مانند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں گورنر کے عہدے پر بھی ڈیموکریٹک امیدوار کی کامیابی نے اسے ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران اس نشست پر ریکارڈ اخراجات آئے اور یہ امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی سینیٹ کی دوڑ بن گئی۔ کین پی کس ٹن کی حامی سپر پی اے سی کے لیے ارب پتی ایلون مسک نے کروڑوں ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔
ریپبلکن امیدوار کین پی کس ٹن ماضی میں مختلف سیاسی اسکینڈلز اور کرپشن کے الزامات کی زد میں بھی رہے تھے جن کی وجہ سے ان کی مہم متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے ٹیکساس کے مختلف دورے کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق ووٹرز میں مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے پائے جانے والے غم و غصے نے بھی انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کے علاوہ امیگریشن کے معاملات پر بھی رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد موجودہ پالیسیوں سے نالاں نظر آئی۔
جیمز ٹلاریکو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مذہبی حوالے بھی دیے اور بائبل کی کہانیوں کی تمثیل پیش کرتے ہوئے اسے طاقتور کے خلاف کمزور کی جیت سے تشبیہ دی۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔
ٹیکساس طویل عرصے سے قدامت پسند سیاست کا گڑھ رہا ہے جہاں ریپبلکنز کا غلبہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اس طویل تسلط کے خاتمے کو سیاسی تجزیہ کار ملک بھر میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔



اپنی رائے دیں