امریکہ میں کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہونے والے اہم وسطی مدتی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے جہاں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی ہے۔
ملک بھر میں لاکھوں شہریوں نے ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے حقِ رائے دہی کا بھرپور استعمال کیا۔
پہلے مرحلے کے تحت منگل کی شام ریاست انڈیانا اور ریاست کینٹکی میں قائم پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند کر دیے گئے۔
ان انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ زیریں یعنی ہائوس آف نمائندگان پر کنٹرول حاصل کرنے میں آگے ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ملک کی تقریباً دس اہم اور سخت مقابلہ والی ریاستوں میں سیاسی معرکہ آرائی جاری ہے۔
سینیٹ کی ان چند نشستوں کا فیصلہ ان ریاستوں میں ہوگا جنہیں روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔
ان تمام اہم اور فیصلہ کن سینیٹ مقابلوں کے نتائج سے یہ طے پائے گا کہ آیا ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔
انتخابات کے ان ابتدائی مراحل میں پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود رہی جنہوں نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔
امریکہ کے مختلف حصوں میں انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی اور انتظامات کے حوالے سے متعلقہ حکام الرٹ رہے۔
حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ آئندہ دنوں میں قانون سازی کے عمل میں کون سی سیاسی جماعت برتری حاصل کرتی ہے۔
ووٹوں کی گنتی کا یہ عمل مختلف ریاستوں میں جاری ہے اور مزید نتائج کے اعلانات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کی توقع ہے۔



اپنی رائے دیں