مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 صبح 10:07 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:08
تازہ
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی ایکشن، دشمن کی پوسٹیں تباہمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا کل لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارانگور اڈہ پر بلا اشتعال فائرنگ: پاک فوج کا بھرپور جوابی ایکشنامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہگرین بے پیکیٹرز نے کیرولینا پینتھرز کو 27-19 سے ہرا دیاجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینیفیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکانعظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسینایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازدسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارکراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی
صبح 10:0731 اکتوبر
دنیا

دبئی سے تل ابیب پرواز پر خودکش حملے کا منصوبہ ناکام

عمانی معاون پائلٹ نے تل ابیب ائیرپورٹ پر طیارہ ٹکرانے کی سازش کی جسے عملے نے ناکام بنا دیا۔

دبئی سے تل ابیب پرواز پر خودکش حملے کا منصوبہ ناکام

فلائی دبئی کی ایک پرواز کے دوران پیش آنے والے ہولناک واقعے میں معاون پائلٹ کی جانب سے طیارے کو تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ کی عمارت سے ٹکرانے کا خطرناک منصوبہ بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا۔ اماراتی اٹارنی جنرل حمد سیف الشامسی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ 30 ستمبر 2026 کو پیش آنے والے اس واقعے میں 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود کپتان پر ایمرجنسی کلہاڑی سے حملہ کیا تاکہ وہ طیارے کا کنٹرول مکمل طور پر سنبھال سکے۔ حکام کا بتانا ہے کہ ملزم 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے حملوں سے گہرا متاثر تھا اور اسی طرز پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

تحقیقات کے دوران یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس ملزم نے تل ابیب کے اپنے دو سابقہ دوروں کے دوران پرواز کے راستوں کا بغور جائزہ لیا تھا اور ائیرپورٹ کے ماحول سے مکمل واقفیت حاصل کی تھی۔ اماراتی حکام کے مطابق بھرتی کے وقت ملزم کی سکیورٹی جانچ پڑتال کی گئی تھی جس میں کسی بھی قسم کا کوئی مشتبہ اشارہ سامنے نہیں آیا تھا۔

متعلقہ اداروں نے اس واقعے کے بعد ملزم کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے تاکہ اس سازش کے تمام محرکات کو سامنے لایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سفاکانہ منصوبے کا بنیادی مقصد تل ابیب ائیرپورٹ کی عمارت پر طیارہ مار کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی اس مخصوص پرواز میں واپسی کے سفر کی ڈیوٹی کے لیے دو اضافی پائلٹ بھی بحیثیت مسافر سوار تھے جو تل ابیب سے اگلی پرواز لے کر واپس آنے والے تھے۔ حملے کے وقت ان میں سے ایک اضافی پائلٹ کاک پٹ کے اردگرد موجود تھا جس نے حالات کو مشکوک پایا۔

ذرائع کے مطابق اس اضافی پائلٹ نے دیکھا کہ کاک پٹ کا دروازہ غیرمعمولی طور پر بار بار کھل اور بند رہا ہے جس پر اسے شدید شبہ ہوا اور اس نے فوری طور پر رسائی کا کوڈ استعمال کیا۔ جب وہ اندر داخل ہوا تو اس نے معاون پائلٹ کو کپتان پر حملہ آور ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

کاک پٹ کے اندر موجود اضافی پائلٹ نے ایک کیبن کریو کے رکن اور چند بیدار مغز مسافروں کی مدد سے فوری طور پر حملہ آور معاون پائلٹ کو دبوچ لیا اور اسے قابو کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ عملے اور مسافروں کی اس مشترکہ اور بروقت مداخلت کی وجہ سے زخمی کپتان کی جان بھی بچ گئی اور ایک بڑا فضائی سانحہ ٹل گیا۔

اس ہنگامہ خیز صورتحال کے دوران طیارے کو بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ائیرپورٹ پر اتار لیا گیا جہاں سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر صورتحال کا کنٹرول سنبھال لیا۔ متعلقہ حکام نے اس بہادری کا مظاہرہ کرنے والے عملے اور مسافروں کی بروقت حکمت عملی کو سراہا ہے جن کی وجہ سے سیکڑوں معصوم جانیں بچ گئیں۔

اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق اس پرواز کے دوران پیش آنے والے اس واقعہ نے دنیا بھر میں ایوی ایشن سکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹس اور فضائی عملے کی سخت ترین جانچ پڑتال کے باوجود ایسے واقعات کا رونما ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

متعلقہ تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے ارادوں کو چھپائے رکھا اور ائیرلائن حکام کو کبھی بھی اپنی ذہنی کیفیت یا کسی متشدد نظریے سے آگاہ نہیں کیا۔ ملزم کی جانب سے پرواز کے دوران کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی یہ کوشش انتہائی منظم معلوم ہوتی ہے۔

سعودی عرب کے شہر تبوک میں اترنے کے بعد مسافروں اور عملے کو فوری طور پر طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کی گئی تاکہ اس ہولناک تجربے کے اثرات سے انہیں نکالا جا سکے۔ مقامی سکیورٹی حکام نے واقعے کی جگہ پر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

فلائی دبئی کی انتظامیہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اس معاملے میں تمام بین الاقوامی تفتیشی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے عملے کے ارکان کی شجاعت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اماراتی اٹارنی جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے منصوبے کے پیچھے کارفرما کسی بھی شخص یا ممکنہ نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تفتیش کار اب ملزم کے مواصلاتی رابطوں اور ماضی کے مالی معاملات کی بھی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں