راولپنڈی میں ایک خاتون پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ راولپنڈی میں پیش آیا جہاں متاثرہ خاتون نے اپنے سسرال والوں کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سسرال والے اسے گھروں میں کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ خاتون کے مطابق اس ناپسندیدہ مطالبے اور گھریلو دباؤ کی وجہ سے گھر میں تناؤ پیدا ہوا جو بعد میں بڑے تشدد کی صورت میں سامنے آیا۔
رپورٹ کے مطابق 25 اکتوبر کو ساس، سسر اور دیور نے مبینہ طور پر خاتون پر تشدد کیا۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس دوران ملزمان نے اس کے سر کے بال بھی کاٹ دیئے جو کہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی فعل تھا۔
خاتون نے اس پورے واقعے سے اپنے شوہر کو آگاہ کیا تاکہ وہ اسے انصاف دلائے لیکن شوہر نے الٹا اپنی بیوی پر تشدد کیا اور اسے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ شوہر کے اس ظالمانہ رویے نے متاثرہ خاتون کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیا۔
متاثرہ خاتون کی شکایت پر تھانہ چکلالہ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا اور متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے فوری ایکشن لیا اور معاملے کی تفتیش شروع کی۔
پولیس نے کارروائی کے دوران خاتون کے شوہر، ساس اور سسر کو حراست میں لے لیا ہے جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس اس تمام معاملے کے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حقائق کا جائزہ لے رہی ہے۔
گھریلو تشدد کے اس واقعے نے علاقے میں توجہ حاصل کی ہے جہاں پولیس کی جانب سے فوری گرفتاریوں کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ حکام کی طرف سے اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اپنی رائے دیں