راولپنڈی کے علاقے شاہ خالد کالونی فضل آباد میں ایک شادی شدہ خاتون پر سسرالیوں کی جانب سے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سسرال والوں نے نہ صرف ان پر جسمانی تشدد کیا بلکہ ان کے بال بھی کاٹ دیے اور ان کے زیورات سمیت نقدی بھی چھین لی۔
متاثرہ خاتون، جن کی شناخت جنت بی بی کے نام سے ہوئی ہے، نے اپنی پریشانی کے عالم میں ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنے چچا سے مدد کی اپیل کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔
خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کی جانب سے دیے گئے دو لاکھ روپے بھی سسرالیوں نے زبردستی لے لیے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سسرال والوں نے ان کی تذلیل کی اور ان کا جینا حرام کر رکھا ہے، جس کے بعد وہ اپنی جان بچا کر پڑوسیوں کے گھر پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں اس معاملے کی کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم ویڈیو اور خبر سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تھانہ چکلالہ کے حکام کے مطابق پولیس کی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ پولیس کا عزم ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران سسرالیوں پر تشدد یا قانون شکنی کا کوئی بھی ثبوت ملا تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد علاقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔
خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی ہونی چاہیے تاکہ متاثرین کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعے کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ متاثرہ خاتون کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر بھی سماجی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد کے اس مبینہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ متاثرہ خاتون کو انصاف مل سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد کے شکار افراد کو فوری طبی اور قانونی مدد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، تفتیش کا عمل جاری ہے اور جلد ہی مزید تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے معاشرتی بیداری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ قانون کی بالادستی اور متاثرین کی بروقت داد رسی ہی ایسے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔





اپنی رائے دیں