پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ قومی ٹیم کے آؤٹ آف فارم اوپننگ بلے باز صائم ایوب کو سہ فریقی سیریز کے بقیہ میچز کے لیے ون ڈے سکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ باہمی اتفاق رائے سے کیا گیا ہے تاکہ کھلاڑی اپنی بیٹنگ فارم بہتر بنا سکے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ٹیم کے ہیڈ کوچ سے تفصیلی گفتگو کے بعد صائم ایوب نے خود ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا مقصد اپنی بیٹنگ تکنیک پر کام کرنا اور کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہے۔
قومی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم انتظامیہ نے صائم ایوب کے اس دیانتدارانہ فیصلے اور خود احتسابی کا خیرمقدم کیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کی موجودہ فارم کے تناظر میں یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ وہ ذہنی طور پر مضبوط ہو سکیں۔
چوبیس سالہ بائیں ہاتھ کے بلے باز صائم ایوب نے اب تک پاکستان کے لیے بیس ایک روزہ میچز کھیل رکھے ہیں۔ اس دوران انہوں نے تین سینچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر سات سو بہترا رنز بنائے ہیں، تاہم حالیہ میچوں میں ان کا بلا خاموش رہا تھا۔
جاری سہ فریقی سیریز کے دوران صائم ایوب کسی بھی میچ میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے تھے۔ سری لنکا کے خلاف ابتدائی میچ میں وہ صرف سات رنز بنا سکے جبکہ راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف وہ آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں بھی صائم ایوب کی کارکردگی مایوس کن رہی اور وہ محض چھ رنز بنا پائے تھے۔ اس کے علاوہ بولنگ میں بھی وہ کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تھے۔
گزشتہ برس کے اوائل میں جنوبی افریقہ کے دورے پر ٹیسٹ میچ کے دوران فیلڈنگ کرتے ہوئے صائم ایوب کا ٹخنہ زخمی ہو گیا تھا۔ اس چوٹ کے بعد سے انہیں مختلف مواقع پر فٹنس اور فارم کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ٹیم میں مختلف پوزیشنز پر کھلائے جانے اور طویل انجری کے بعد واپسی کے عمل نے بھی ان کی کارکردگی پر اثر ڈالا تھا۔ ماہرین کے مطابق طویل المدتی کرکٹ میں کامیابی کے لیے صائم ایوب کو اپنے کھیل کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
پی سی بی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق صائم ایوب کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو قومی ون ڈے سکواڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ صاحبزادہ فرحان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو استحکام فراہم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
صاحبزادہ فرحان اس وقت پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں قومی ٹیم نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔
صاحبزادہ فرحان اب تک پاکستان کی جانب سے محدود بین الاقوامی ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے چھ ون ڈے میچوں میں سترہ کی اوسط سے ایک سو ایک رنز سکور کیے ہیں اور وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے خواہشمند ہیں۔
پاکستانی ٹیم نے سہ فریقی سیریز میں اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل تین فتوحات کے ساتھ فائنل کے لیے پہلے ہی کوالیفائی کر لیا ہے۔ سیریز کا اگلا میچ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف کھیلا جا رہا ہے۔
کرکٹ حلقوں میں صائم ایوب کو ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس بھیجنے کے فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑی کو ذہنی دباؤ سے نکلنے اور اپنی خامیوں پر قابو پانے کا موقع ملے گا۔
دوسری جانب مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ صائم ایوب انتہائی باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور وہ تینوں فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ بورڈ کو نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھنی چاہئے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو رواں برس کے آخر میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے اہم عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت کرنی ہے۔ ٹیم انتظامیہ چاہتی ہے کہ میگا ایونٹ سے قبل تمام کھلاڑی بہترین فارم اور مکمل فٹنس حاصل کر لیں۔



اپنی رائے دیں