مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:37
بریکنگ
ملتان میں زیر تعمیر پلازا کی چھت گر گئی، مزدور ملبے تلے دب گئےکشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں، بھارتی تسلط کے 79 سال مکملراولپنڈی میں خاتون پر مبینہ تشدد، شوہر اور ساس سسر گرفتاررینالہ خورد: سہولت بازار میں دکانوں کی مبینہ تقسیم پر احتجاجکراچی کے ساحلی پانیوں میں 500 سے زائد ڈولفنز کا غیر معمولی اجتماعٹرائی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہخیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ: پی ٹی آئی میں سیاسی سرگرمیاں تیزنائیجیریا نے یوگنڈا کو شکست دے کر سب ریجنل ٹائٹل جیت لیاصائم ایوب سہ فریقی سیریز سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان شاملامریکا میں تین سالہ فٹبالر کی مہارت پر تنازع، پولیس طلبآئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، قومی اسکواڈ کا اعلانبلاول بھٹو کا یومِ سیاہ کشمیر پر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہمشرقِ وسطیٰ کا کوئی ملک دوسرے کی قیمت پر سلامتی حاصل نہیں کر سکتا: انتونیو گوتیرسپنجاب کے سرکاری سکولوں کا ایس آئی ایس ڈیٹا 24 گھنٹے میں درست کرنے کی ہدایتجھنگ تھل جیپ ریلی میں سرکاری گاڑی کا استعمال، ڈپٹی کمشنر ہٹا دیے گئےلاہور ہائی کورٹ: جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ضمانتیں مستردتہران اجلاس کا مرکزی موضوع سعودی عرب کی صورتحال تھا، خواجہ آصفکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتارخواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، این سی سی آئی اے کی کارروائییومِ سیاہ کشمیر: پاکستان کا کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ
دنیا

مشرقِ وسطیٰ کا کوئی ملک دوسرے کی قیمت پر سلامتی حاصل نہیں کر سکتا: انتونیو گوتیرس

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل پر زور دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا کوئی ملک دوسرے کی قیمت پر سلامتی حاصل نہیں کر سکتا: انتونیو گوتیرس

نیویارک سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اپنے ایک بیان میں اس اہم حقیقت پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ریاست کی قیمت پر دیرپا سلامتی حاصل نہیں کر سکتا۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ خطے میں موجودہ سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا اور اس کے لیے ایک نئے اور جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

انتونیو گوتیرس کا یہ مؤقف عالمی سطح پر خطے میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں طویل عرصے سے امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے نئے نظامِ سلامتی کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے جس کے تحت خطے کے تمام ممالک اور وہاں کے باسی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے مکمل مجاز ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے معاملات میں بیرونی مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور تمام فیصلوں کی باگ ڈور مقامی سطح پر عوام اور ممالک کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے اور تنازعات کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

انتونیو گوتیرس نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کردہ جنگوں کے لامتناہی سلسلے کے ذریعے کیا جائے، کیونکہ اس طریقہ کار نے خطے کے عوام کو صرف مشکلات اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جنگوں اور عسکری کارروائیوں کا یہ طویل سلسلہ خطے کے ممالک کے لیے کسی بھی طرح سودمند ثابت نہیں ہوا، بلکہ اس کی وجہ سے امن کی تمام امیدیں دم توڑتی رہی ہیں اور معاشی و سماجی ترقی کے راستے مسدود ہوئے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورتحال پر ہمیشہ سے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی خصوصی توجہ مرکوز رہی ہے، اور اقوامِ متحدہ اس حوالے سے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ تازہ ترین بیان دراصل خطے کے حوالے سے عالمی ادارے کے اس دیرینہ مؤقف کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ہمیشہ سے بات چیت، باہمی احترام اور خودمختاری کے اصولوں کو مقدم رکھا گیا ہے۔

سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق انتونیو گوتیرس کا یہ اہم پیغام خطے میں طاقت کے توازن، باهمی تعاون اور خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے بنیادی شرط کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بیان میں بیرونی عناصر کی جانب سے مسلط کردہ پالیسیوں اور مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے علاقائی خودمختاری اور مقامی قیادت کے فیصلوں پر بھرپور زور دیا گیا ہے، تاکہ خطے کے عوام خود اپنے امن کا تعین کر سکیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ عالمی ادارہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار آئندہ بھی بھرپور انداز میں ادا کرتا رہے گا۔

خطے کے تمام ممالک کے مابین پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو اپنانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ناگزیر قرار دیا گیا ہے، بصورت دیگر بحرانوں کا یہ لامتناہی سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں