نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے خواتین کو فون پر ہراساں کرنے اور انہیں بلیک میل کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کھلی کچہری میں متاثرہ خواتین کی جانب سے کی جانے والی شکایات کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ایجنسی حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے لاہور اور اسلام آباد میں بیک وقت چھاپے مارے گئے، جس کے دوران ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کو قبضے میں لے لیا گیا۔ ان آلات سے قابلِ اعتراض تصاویر، ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم ذیشان پر الزام ہے کہ اس نے ایک خاتون کو نازیبا مواد اہل خانہ اور دیگر افراد کو بھیجنے کی دھمکی دے کر خوفزدہ کیا تھا۔ ملزم کا مقصد متاثرہ خاتون کو بلیک میل کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا تھا۔
دیگر دو ملزمان کے خلاف بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایک ملزم پر واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسی سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے قابلِ اعتراض ویڈیوز بھیج کر بلیک میلنگ کرنے کا الزام ہے۔ دوسرے ملزم کے موبائل سے سوشل میڈیا پر طویل عرصے تک ہراساں کرنے کے شواہد ملے ہیں۔
این سی سی آئی اے حکام نے برآمد شدہ تمام موبائل فونز کو فرانزک تجزیے کے لیے سیل کر دیا ہے تاکہ مزید ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ اس عمل سے کیس کو عدالت میں مضبوطی سے پیش کرنے میں مدد ملے گی۔
گرفتار ملزمان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ ایجنسی نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ملزمان سے مزید پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس معاملے پر سخت نوٹس لیا گیا تھا، جس کے بعد این سی سی آئی اے نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو قانون کی گرفت میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
خواتین کی جانب سے کھلی کچہری میں کی جانے والی شکایات پر فوری کارروائی سے متاثرین میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ محکمہ داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ کریں۔
سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر این سی سی آئی اے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ جدید فرانزک آلات کی مدد سے اب ملزمان کا ڈیجیٹل ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی دھمکیوں یا قابلِ اعتراض مواد کو نظر انداز کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کو مطلع کرنا ہی محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش کے اگلے مراحل میں ملزمان کے رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اگر اس نیٹ ورک میں کوئی اور گروہ ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس کیس کی پیروی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہی اس کارروائی کا بنیادی مقصد ہے تاکہ عوام بالخصوص خواتین آن لائن محفوظ ماحول میں رہ سکیں۔




اپنی رائے دیں