امریکہ میں نومبر 2026 کے پہلے ہفتے میں وسط مدتی انتخابات کا میدان سجنے جا رہا ہے، جس میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلکن پارٹی کو مختلف سیاسی سرویز میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے انتخابی میدان میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ، جو دو بار صدارتی مدت مکمل کر چکے ہیں، اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی آئین کے تحت وہ تیسری بار صدر منتخب نہیں ہو سکتے، تاہم وہ بار بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو تیسری مرتبہ بھی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کی عالمی سطح پر بعض اقدامات اور ناکامیاں ان کے لیے انتخابی بوجھ بن چکی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر حملے اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔ غزہ میں 80 ہزار سے زائد شہادتوں کے باوجود اسرائیل کی مسلسل حمایت اور لبنان و شام پر اسرائیلی کارروائیوں پر خاموشی نے بھی عالمی سطح پر امریکہ کے تشخص کو متاثر کیا ہے۔
علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے دوران امریکی عسکری امداد نہ ملنے پر سعودی حکام کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان تمام عوامل نے امریکی ووٹرز کے درمیان ٹرمپ کی ساکھ کو کمزور کیا ہے، جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو ملنے کا امکان ہے۔
انتخابی کامیابی کے لیے ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں اور سرمایہ داروں سے مدد لے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایلون مسک نے ری پبلکن پارٹی کی کانگریس میں پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے 275 ملین امریکی ڈالرز سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری امریکی سیاست میں مالی اثر و رسوخ کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اعلان کیا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر بطور 'ٹرمپ ڈیویڈنڈ' دیے جائیں گے۔ تاہم، ماہرین معاشیات نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کے لیے 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد کے فنڈز درکار ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ پیشکش ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کی ایک کوشش ہے، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں ری پبلکن پارٹی کے لیے سینیٹ کی نشستوں کا دفاع کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو 'ناقابل اعتبار' قرار دیا جا رہا ہے۔ کینیڈین مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کا عالمی اتحادیوں پر اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کے اثرات نومبر کے انتخابات میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
سفید فام امریکیوں کے ایک مخصوص طبقے میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے، خاص طور پر امیگریشن اور غیر ملکیوں کے حوالے سے ان کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے۔ ٹرمپ کی جانب سے انتخابات سے قبل ایران پر مزید حملے نہ کرنے کا بیان بھی اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انتخابات کے نتائج ری پبلکن پارٹی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر ٹرمپ کی پارٹی شکست سے دوچار ہوتی ہے تو کانگریس میں ان کے مخالفین ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی پارٹی کی جیت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ سیاسی تنہائی سے بچ سکیں۔
امریکی انتخابات کے حوالے سے حتمی نتائج 3 نومبر 2026 کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ اس وقت تک دونوں بڑی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کو تیز تر کر رہی ہیں۔ ووٹرز کی جانب سے معیشت، خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی کے معاملات پر فیصلہ کن رائے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی عالمی ناکامیوں میں 3 جنوری 2026 کو وینزویلا پر حملہ اور وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا کی گرفتاری بھی شامل ہے، جس کے اثرات اب انتخابی مہم پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے عالمی سطح پر اختیار کردہ جارحانہ پالیسیاں اب ان کے اپنے ووٹرز کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔





اپنی رائے دیں