متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں خودکار ٹیکسیوں کے تجرباتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامیہ نے اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی عارضی بندش کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ایمریٹس روڈ (ای 611) کی تین لینز اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ٹنل کو ٹریفک کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ یہ بندش دونوں اطراف سے لاگو ہوگی۔
حکام کے مطابق ٹریفک کی یہ بندش 26 اکتوبر سے شروع ہو کر 31 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران روزانہ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک متعلقہ سڑکوں اور ٹنل پر ٹریفک کی روانی متاثر رہے گی، جس کے پیش نظر متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آر ٹی اے نے شہریوں اور ڈرائیوروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنے راستوں کا تعین کر لیں تاکہ ٹریفک جام جیسی صورتحال سے بچا جا سکے۔ سڑکوں پر موجود رہنما علامات اور ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت ملک میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ حکومت اگلے سال تک 10 ہزار سے زائد خودکار ٹیکسیاں اور ڈیلیوری وینز سڑکوں پر لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں خودکار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ ابوظبی اور دبئی کے کئی علاقوں میں پہلے ہی لیول فور کی خودکار ٹیکسی سروسز تجارتی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں، جنہیں عوام کی جانب سے پذیرائی مل رہی ہے۔
ابوظبی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا پہلا شہر بن چکا ہے جہاں مکمل طور پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی کمرشل سروسز کا آغاز کیا گیا ہے۔ یاس آئی لینڈ پر ان جدید ٹیکسیوں کا نیٹ ورک کامیابی سے کام کر رہا ہے۔
دبئی میں بھی ام سقیم اور جمیرا جیسے اہم علاقوں میں خودکار ٹیکسیاں چلائی جا رہی ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان گاڑیوں کے استعمال سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ نقل و حمل کا نظام بھی زیادہ محفوظ اور جدید ہو جائے گا۔
آنے والے دنوں میں خودکار گاڑیوں کے لیے مزید آرڈرز کی تکمیل بھی متوقع ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت اس ٹیکنالوجی کو قومی سطح پر پھیلانے کے لیے انفراسٹرکچر میں مسلسل بہتری لا رہی ہے تاکہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
ٹریفک کی بندش کے دوران آر ٹی اے کی ٹیمیں سڑکوں پر نگرانی کریں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ حکومتی اعلانات کے مطابق اپنی سفری منصوبہ بندی کریں تاکہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہ سرمایہ کاری خطے میں ایک نئی مثال قائم کر رہی ہے۔ خودکار گاڑیوں کا یہ تجربہ نہ صرف دبئی بلکہ پورے ملک کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا جو ٹرانسپورٹ کے مستقبل کو بدل دے گا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ 31 اکتوبر کے بعد ٹریفک کی صورتحال معمول پر آ جائے گی اور تمام شاہراہیں اور ٹنل دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی جائیں گی۔ اس دوران کسی بھی قسم کی دشواری سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کا استعمال ہی بہترین حل ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ سے دبئی کی سمارٹ سٹی کی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ خودکار گاڑیوں کی آزمائش کے دوران حفاظتی اقدامات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عوام کا اس جدید نظام پر اعتماد برقرار رہے۔





اپنی رائے دیں