ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے تہران میں پارلیمنٹ سے ایک اہم خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور خطے کے تناظر میں سخت بیانات جاری کیے ہیں اور ملکی سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے انتہائی واشگاف الفاظ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا عسکری کارروائی کی صورت میں ایسا ناقابلِ تصور جواب دیا جائے گا جس کا مخالفین تخمینہ بھی نہیں لگا سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دفاعی پوزیشن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا تاکہ دشمن کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔
ایرانی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہرگز پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے، چاہے امریکہ کی طرف سے کسی بھی نوعیت کی دھمکیاں کیوں نہ دی جائیں، ایرانی قوم اپنے اصولوں پر قائم رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ ہی وہ فریق ہے جس نے خطے میں غلط اندازے لگائے اور اب وہ خود کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے ضروری اور عملی اقدامات کرنے پر مجبور ہے۔
محمد باقر قالیباف نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ وسیع پیمانے پر جنگ کی دھمکیاں یا انسانی جانوں کے زیاں کے انتباہات ایرانی قوم کو اپنے مؤقف سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اس قسم کے دباؤ کے ہتھکنڈے ایرانی عوام کو اپنے مسلمہ حقوق، قومی مفادات اور خودمختار فیصلوں سے دستبردار ہونے پر کسی صورت مجبور نہیں کر سکتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک واشنگٹن کے حکام اپنے طرزِ عمل میں واضح اور بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتے، اس وقت تک ان کے کسی بھی دعوے کی کوئی سیاسی یا سفارتی حیثیت نہیں ہے۔
ایرانی چیف مذاکرات کار نے مطالبہ کیا کہ امریکی حکام کو زور زبردستی، دھونس اور طمع و لالچ پر مبنی اپنی پرانی روش کو مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ناگزیر ہے کہ امریکہ اپنی ان تمام ذمہ داریوں کی ٹھوس انداز میں تلافی کرے جن کی ماضی میں سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق تہران کی نگاہ میں امریکی بیانات اور دعوؤں کی ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ماضی کا تلخ تجربہ سب کے سامنے موجود ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں یہ بھی یاد دلایا کہ وہ اس سے پہلے بھی اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ اس معاملے پر ان کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں ہے۔
ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ایران کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دوٹوک رہا ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بین الاقوامی سفارت کاری کے تناظر میں تہران کے یہ بیانات انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں جو ملکی دفاع کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔





اپنی رائے دیں