مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:57
بریکنگ
گوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب کو جاتے دلہا دلہن کی گاڑی پر فائرنگ، دلہن جاں بحققلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاکسہ ملکی ون ڈے سیریز، پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر بیلسٹک میزائل حملے ناکامراولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحققومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہانگلینڈ کا پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف، بین ڈکٹ کی سینچریماریہ بی بی نے 5 ہزار میٹر ریس کا قومی ریکارڈ توڑ دیاپورٹ قاسم پر درآمدی ایل پی جی کا تیسرا جہاز پہنچ گیانائیجریا میں بجلی کی قلت اور مہنگائی کے باعث سولر پینل شادی کا مقبول ترین تحفہ بن گئےدبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے والے پیدل افراد کیلئے 400 درہم جرمانہ مقررپی آئی اے کا اہم سنگ میل، بوئنگ 787 ڈریم لائنر پاکستان میں آپریشن کے لیے تیارایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو اسکرین کے مسائل کا سامنانادرا نے شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے کھلی کچہریوں کا شیڈول جاری کر دیابارک اوباما کا ٹرمپ انتظامیہ پر کڑے وار، ایران جنگ کو بے بنیاد قرار دے دیاایران کا بندر عباس کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰکروڑ پاؤنڈ کے فراڈ میں بیس سال قید کی سزا پانے والا مجرم دبئی کیسے پہنچاشاہین شاہ آفریدی ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین ڈیڑھ سو وکٹیں لینے والے پاکستانی فاسٹ بولر بن گئےوزیراعظم شہباز شریف کا سکول و مدارس کے 5 لاکھ طلبہ میں کروم بکس تقسیم کرنے کا آغازامریکا کی ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے جنگی بیڑے پر تیاریاں شروع
پاکستان بریکنگ نیوز

قلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاک

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عادل شاہ عرف درویش ہلاک کر دیا گیا۔

قلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاک

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے ایک انتہائی اہم کمانڈر کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری عزم مصمم اور بھرپور اقدامات کا حصہ ہے، جس کے تحت ریاست کے خلاف سرگرم عناصر کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔

ملک بھر میں جاری آپریشن ردالفتنہ کے سلسلے کی یہ ایک اہم کامیابی ہے جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو مزید تقویت دی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر قلعہ سیف اللہ کے علاقے میں یہ کارروائی کی اور فتنہ الخوارج کے نیٹ ورک کو شدید دھکا پہنچایا ہے۔

ہلاک ہونے والے دہشت گرد کمانڈر کی شناخت عادل شاہ عرف درویش کے نام سے ہوئی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ اس کی سرگرمیوں سے علاقے میں امن و امان کو شدید خطرات لاحق تھے جن کا اب سکیورٹی اداروں نے قلع قمع کر دیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات اور دستیاب معلومات کے مطابق، یہ خارجی کمانڈر دسمبر دو ہزار بیس سے فتنہ الخوارج کے ساتھ وابستہ تھا اور تنظیم کے لیے مختلف کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے تنظیم کے اندر ایک اہم مقام حاصل کر لیا تھا اور اس کی تخریبی سرگرمیاں مسلسل جاری تھیں۔

موصولہ تفصیلات کی رو سے دہشت گرد عادل شاہ سن دو ہزار چوبیس سے اس شدت پسند گروہ کے مالی امور اور فنڈز کی نگرانی کی انتہائی حساس ذمے داری بھی انجام دے رہا تھا۔ وہ تنظیم کے لیے رقوم کی ترسیل اور مالی وسائل کے انتظام میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خارجی کمانڈر غیر مقامی دہشت گردوں کو ژوب، شیرانی اور شعبان کے مختلف علاقوں میں مستقل رہائش فراہم کرنے میں بھرپور سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا تھا۔ وہ ان علاقوں میں باہر سے آنے والے عناصر کو چھپانے اور ان کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں ملوث تھا۔

خارجی عادل شاہ عرف درویش سن دو ہزار بائیس اور دو ہزار تئیس کے دوران سکیورٹی فورسز پر ہونے والے مختلف حملوں میں بھی براہ راست ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ریاست کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے سنگین جرائم میں بھی نامزد تھا۔

دہشت گردی کی ان تمام گھنائونی سرگرمیوں کے علاوہ وہ معصوم شہریوں کو اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے ذریعے ہراساں کرنے کی وارداتوں میں بھی سرگرم عمل رہا تھا۔ اس کی مجرمانہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والا ایک خطرناک سرغنہ تھا۔

سرکاری حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں میں کم و بیش انیس ایف آئی آرز درج کی جا چکی تھیں۔ ان مقدمات میں سنگین نوعیت کے جرائم شامل تھے جن کی سماعت عدالتوں میں جاری تھی۔

اس خطرناک دہشت گرد کمانڈر کی گرفتاری یا خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے اس کے سر کی قیمت پچیس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، جو اس کے انتہائی مطلوب ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی عرصے سے اس کی تلاش میں مصروف تھے جو اب اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔

پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ بلوچستان کے طول و عرض میں انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر جاری یہ کارروائیاں اس وقت تک بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔

حکومت اور سکیورٹی اداروں کا موقف ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ فیصلہ کن اقدامات آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک اسی جذبے کے ساتھ جاری رہیں گے۔ ریاست کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور قانون کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔

عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان قریبی تعاون سے ملک میں امن و امان کی فضا کو مزید بہتر بنانے اور شرپسند عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے میں بڑی مدد مل رہی ہے۔ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں