عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل میں ہونے والے اہم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں جن میں ووٹرز اپنے اگلے وزیراعظم کا انتخاب کریں گے۔ اس کے بعد 3 نومبر کو امریکا میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے، جن میں ایوان نمائندگان، سینیٹ کی نشستوں اور متعدد ریاستوں میں گورنرز کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی بڑی کارروائی کا امکان 3 نومبر کے امریکی انتخابات سے قبل انتہائی کم ہے۔ ریپبلکن پارٹی کو خدشہ ہے کہ جنگی حالات کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
امریکا میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے، جس کا براہِ راست اثر انتخابی مہم پر پڑ رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی دستے اور طیارہ بردار بحری بیڑے روانہ کر چکے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر تعینات عملے کی تعداد میں بھی مبینہ طور پر کمی کی گئی ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں ماضی میں ایرانی جوابی حملوں کے باعث نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ اقدام ممکنہ بڑے تصادم کی تیاریوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام تر اشارے اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ خطے میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر فضائی بمباری کا امکان بھی شامل ہے۔ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ماہر علی واعظ کے مطابق، ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی داخلی سیاسی مشکلات سے نکلنے کا ایک ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ حکمت عملی ان کے سیاسی مستقبل کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس جنگ کا مقصد سیاسی ساکھ کو بچانا ہو، وہی جنگ بالآخر ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
امریکی صدر نے ماضی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ جنگ کے مزید پھیلنے کے آثار نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظریں اب 27 اکتوبر اور 3 نومبر کے انتخابات پر مرکوز ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج ہی طے کریں گے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا گراف کس سمت جائے گا اور کیا عالمی طاقتیں سفارتکاری کا راستہ اپنائیں گی یا نہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ تیل کی سپلائی لائنوں اور تجارتی راستوں پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ مسلسل موجود ہے۔
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکن پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بھی غیر محتاط قدم سے گریز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ووٹرز کی ناراضگی سے بچا جا سکے۔
مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کو ایک اور بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں