خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے نواحی گاؤں گرہ گلداد میں کواڈ کاپٹر گرنے کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ اس کی والدہ اور بھائی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فضا میں موجود کواڈ کاپٹر اچانک توازن کھو کر زمین پر آن گرا۔ حادثے کی شدت کے باعث ایک بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کی والدہ اور دوسرا بھائی شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور بڑی تعداد میں مقامی مکینوں نے ہتھالہ چوک پر جمع ہو کر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے بچوں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر ٹریفک معطل کر دی اور انتظامیہ سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
متاثرہ خاندان کے لواحقین اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کے اوپر اس طرح کے ڈرونز یا کواڈ کاپٹرز کا اڑنا انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شہری علاقوں میں اس طرح کی پروازوں پر سخت پابندی عائد کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے کہ آیا یہ کواڈ کاپٹر کسی نجی تقریب کے لیے استعمال ہو رہا تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور تکنیکی خرابی کارفرما تھی۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ پولیس نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے اس علاقے میں پیش آنے والے اس واقعے نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہری حدود میں ڈرون کیمروں اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال کے لیے ضابطہ اخلاق کو یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں کواڈ کاپٹرز کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے، تاہم حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث اکثر ایسے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تربیت یافتہ آپریٹرز کا ہونا ضروری ہے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ دوبارہ کسی رہائشی علاقے میں اس قسم کی پروازوں سے کوئی جانی نقصان نہ ہو۔
زخمی ہونے والے ماں اور بیٹے کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کی حالت خطرے سے باہر آ سکے۔
علاقے کے عمائدین نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کی جائے اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔
واقعے کے بعد سے علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تاحال کسی قسم کی گرفتاری یا مقدمے کے اندراج کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔





اپنی رائے دیں