مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:56
بریکنگ
گوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب کو جاتے دلہا دلہن کی گاڑی پر فائرنگ، دلہن جاں بحققلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاکسہ ملکی ون ڈے سیریز، پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہایران کے خلاف جارحیت کا ناقابلِ تصور جواب دیں گے، باقر قالیبافگوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہےسول سروسز اکیڈمی میں جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے بلاک کا افتتاحتمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے، عباس عراقچیراولپنڈی میں مبینہ غلط انجکشن لگنے سے پانچ سالہ بچی جاں بحق، عطائی گرفتاررضا اللہ کا اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرلایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا، محسن نقویراولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحققومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہانگلینڈ کا پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف، بین ڈکٹ کی سینچریماریہ بی بی نے 5 ہزار میٹر ریس کا قومی ریکارڈ توڑ دیاپورٹ قاسم پر درآمدی ایل پی جی کا تیسرا جہاز پہنچ گیانائیجریا میں بجلی کی قلت اور مہنگائی کے باعث سولر پینل شادی کا مقبول ترین تحفہ بن گئےدبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے والے پیدل افراد کیلئے 400 درہم جرمانہ مقررپی آئی اے کا اہم سنگ میل، بوئنگ 787 ڈریم لائنر پاکستان میں آپریشن کے لیے تیارایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو اسکرین کے مسائل کا سامنانادرا نے شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے کھلی کچہریوں کا شیڈول جاری کر دیا
پاکستان

راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحق

اہل خانہ نے سینئر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور زچگی کا کیس جونیئر عملے کے سپرد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحق

راولپنڈی کے معروف سرکاری ہسپتال میں زچگی کے دوران مبینہ طور پر طبی عملے کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث دو نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اس افسوسناک صورتحال کے نتیجے میں بچوں کی والدہ کی حالت بھی انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے جسے فوری طور پر انتہائی نگداشت کے شعبے یعنی آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

متاثرہ خاندان کا تعلق ٹیکسلا سے بتایا جاتا ہے جہاں سے اٹھارہ سالہ حاملہ خاتون کو علاج و معالجے کے لیے اس بڑے طبی مرکز لایا گیا تھا۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد جب حالات بگڑے تو لواحقین نے فوری طور پر ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کی کارکردگی پر شدید نوعیت کے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ اس نازک ترین موقع پر ہسپتال کے وارڈ میں کوئی بھی سینئر ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے مریضہ کو بروقت اور درست طبی امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ زچگی کا انتہائی پیچیدہ کیس بغیر کسی تجربہ کار ماہر ڈاکٹر کی موجودگی کے جونیئر ڈاکٹروں کے حوالے کر دیا گیا۔

لواحقین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جونیئر عملے کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے دوران زچگی پیچیدگیوں پر قابو نہ پایا جا سکا اور نتیجہ دونوں معصوم بچوں کی المناک موت کی صورت میں نکلا۔ اس تمام صورتحال نے سرکاری ہسپتالوں کے ایمرجنسی اور گائنی وارڈز میں طبی سہولیات اور عملے کی موجودگی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال انتظامیہ بھی حرکت میں آ گئی ہے اور میڈیکل سپرنٹنڈنت کی جانب سے اس پورے معاملے پر ابتدائی ردعمل اور وضاحت سامنے آ چکی ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر شرجیل شیخ نے ذرائع ابلاغ اور ورثا کو بتایا ہے کہ زچگی کے عمل سے پہلے ہی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ کے ذریعے یہ تصدیق ہو چکی تھی کہ بچوں کی پیٹ میں ہی موت واقع ہو چکی تھی۔

انتظار کے ان لمحات میں جب مریضہ کو ہسپتال لایا گیا تو طبی طور پر حالات پہلے ہی انتہائی مخدوش اور پیچیدہ ہو چکے تھے جن کو سنبھالنا ڈاکٹروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ تاہم ہسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کی طرف سے باضابطہ تحریری درخواست موصول ہو چکی ہے جس کی روشنی میں مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے گی۔

میڈیکل سپرنٹنڈنت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ آیا واقعی ڈیوٹی پر موجود عملے کی جانب سے کسی قسم کی غفلت برتی گئی یا نہیں، اور اگر کسی کی کوتاہی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے بھی اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکاری طبی اداروں میں مریضوں کے علاج کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔

پاکستان کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں اس نوعیت کے واقعات کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے جہاں اکثر و بیشتر دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب مریض بنیادی طبی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ راولپنڈی اور اس کے گردونواح کے اضلاع سے ہزاروں مریض روزانہ کی بنیاد پر بینظیر بھٹو ہسپتال، ہولی فیملی ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

ان بڑے طبی مراکز میں مریضوں کا رش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات گائنی اور ایمرجنسی وارڈز میں تعینات عملہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے کیسز کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنانا اور جونیئر ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی کرنا انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حاملہ خواتین کے ایسے پیچیدہ اور ہنگامی نوعیت کے کیسز کے لیے ہمیشہ ایک الگ اور انتہائی فعال ٹیم موجود ہونی چاہیے جو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہو۔ ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والی اس اٹھارہ سالہ خاتون اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والا یہ سانحہ ایک بار پھر اس نظام پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔

شہر کے سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غریب عوام کے لیے سرکاری اسپتال ہی واحد سہارا ہوتے ہیں اور وہاں اس قسم کی مبینہ غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔

ہسپتال انتظامیہ نے تال میل بہتر بنانے اور انکوائری کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ دوسری طرف متاثرہ خاندان صدمے کی حالت میں ہے اور وہ اپنی بیٹی کی صحت کی بحالی کے ساتھ ساتھ انصاف کے لیے حکام بالا کی طرف دیکھ رہا ہے جنہوں نے واقعے کی جڑ تک پہنچنے کا وعدہ کیا ہے۔

متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو ہسپتال میں پیش آنے والے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں