لاہور جنرل ہسپتال کی انتظامیہ نے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے دو ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق دونوں ملازمین کو ان کے عہدوں سے ریلیو کر دیا گیا ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے اس حوالے سے باضابطہ ہدایات جاری کیں، جن کے تحت راشد مسیح اور عدیل نامی ملازمین کو فوری طور پر محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی ڈسپوزل پر بھیج دیا گیا ہے۔
ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کے امور میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا سستی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریضوں کی دیکھ بھال اور ہسپتال کے نظم و نسق میں غفلت ناقابل قبول ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں تعینات عملے کی بنیادی ذمہ داری مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا ہے، جس میں کسی بھی قسم کی غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ہسپتال انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کام چوری اور فرائض سے غفلت برتنے والے دیگر اہلکاروں کے خلاف بھی مستقبل میں اسی طرح کے سخت فیصلے کیے جائیں گے تاکہ ہسپتال کے معیارِ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کو ریلیف مل سکے۔
واضح رہے کہ لاہور جنرل ہسپتال شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مریض طبی امداد کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کا مقصد ہسپتال کے اندر ڈسپلن کو برقرار رکھنا ہے۔
اس کارروائی کے بعد متعلقہ ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ میں اپنی رپورٹ پیش کریں، جہاں ان کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی کے ضابطے طے کیے جائیں گے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں میں اس طرح کی احتسابی کارروائیاں نچلی سطح پر کام کرنے والے عملے کی ذمہ داریوں کے احساس کو بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جس سے بالآخر مریضوں کو ملنے والی سہولیات میں بہتری آتی ہے۔
لاہور جنرل ہسپتال کی انتظامیہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تمام شعبہ جات کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں تاکہ کسی بھی سطح پر غفلت کی گنجائش نہ رہے۔
اس واقعے کے بعد ہسپتال کے دیگر ملازمین میں بھی نظم و ضبط کی پابندی کے حوالے سے ایک واضح پیغام گیا ہے۔ انتظامیہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہسپتال کا ماحول مریضوں کے لیے سازگار بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔
محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اب ان ملازمین کے کیس کا جائزہ لے گا اور قواعد و ضوابط کے مطابق مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔ یہ عمل سرکاری ملازمین کے لیے ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی شعبے میں عملے کی جانب سے غفلت یا بدسلوکی کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر انتظامیہ کو مطلع کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
مستقبل میں بھی ہسپتال کے اندر شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کی نگرانی کا عمل جاری رہے گا تاکہ سرکاری وسائل کا درست استعمال اور مریضوں کی بروقت تیمارداری کو یقینی بنایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں