پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور انگلینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر ول جیکس نے جاری تین ملکی کرکٹ سیریز کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے میچوں کی صورتحال، پچز کے مزاج اور اپنی ٹیموں کی تیاریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
قومی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین ملکی سیریز میں پاکستان ٹیم کی مجموعی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے اور مشکل حالات کے باوجود کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چیلنجنگ کنڈیشنز میں ٹیم نے دو مرتبہ کامیابی کے ساتھ ہدف کا دفاع کیا جو کہ بولرز کی بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
راولپنڈی میں کھیلے جانے والے میچ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شاہین آفریدی نے واضح کیا کہ آخری میچ کے دوران پچ تبدیل نہیں کی گئی تھی بلکہ میدان پر پڑنے والی شدید اوس کی وجہ سے حریف ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اوپننگ بلے باز صائم ایوب کی حالیہ کارکردگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے قومی کپتان نے کہا کہ وہ گزشتہ چند سیریز میں پاکستان کے بہترین ون ڈے کھلاڑیوں میں شامل رہے ہیں اور ان کی صلاحیتوں پر پوری ٹیم کو بھرپور اعتماد ہے۔
تجربہ کار بلے باز فخر زمان کی ٹیم میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ وہ پاکستان کے ایک انتہائی اہم کھلاڑی ہیں اور ٹیم میں ان کی موجودگی کا ہونا انتہائی ضروری ہے جو بیٹنگ لائن کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔
آئندہ آنے والے بڑے مقابلوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ اگلا ورلڈ کپ تیز پچز پر کھیلا جانا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ آج کل بھی تیز رفتار پچز تیار کی جائیں تاکہ کھلاڑیوں کو اس ماحول کی عادت ہو سکے۔
اسپنر ابرار احمد کے بارے میں سوال پر کپتان نے کہا کہ وہ اسکواڈ کا ایک اہم حصہ اور بہترین بولر ہیں جنہیں میچ کی کنڈیشنز اور ضرورت کے مطابق پلئنگ الیون میں ضرور شامل کیا جائے گا تاکہ حریف بلے بازوں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ نئے ٹیلنٹ نے بہترین کھیل پیش کیا ہے اور اس وقت پوری ٹیم کا بنیادی ہدف ہر صورت میں میچ جیتنا اور ملک کا نام روشن کرنا ہے۔
اپنی بولنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ دنوں میں ان کی رفتار میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن ان کا بنیادی مقصد رفتار کے بجائے ٹیم کو وکٹیں دلانا اور میچ جتوانا ہے۔
دوسری جانب انگلینڈ کے آل راؤنڈر ول جیکس نے پریس کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کے خلاف کھیلا گیا میچ مجموعی طور پر بہت اچھا تھا، تاہم اس میں شکست کا دکھ بھی ٹیم کے ساتھ ہے۔
ول جیکس نے پاکستان میں مہمان نوازی اور کرکٹ کے ماحول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آکر کھیلنا اور یہاں کے شائقین کے سامنے پرفارم کرنا بہت اچھا لگتا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کرکٹ سے شدید محبت کرتے ہیں۔
انگلینڈ کے کھلاڑی نے تسلیم کیا کہ کسی بھی غیر ملکی مہمان ٹیم کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا اور یہاں آکر کھیلنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے کیونکہ یہاں کی کنڈیشنز کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا۔
سیریز میں ٹیم کی پوزیشن پر بات کرتے ہوئے ول جیکس نے بتایا کہ اگرچہ انگلینڈ اس سیریز میں دو میچ ہار چکا ہے، لیکن سیریز کا ابھی کافی حصہ باقی ہے اور ٹیم شاندار انداز میں کم بیک کرنے کی کوشش کرے گی۔
انگلینڈ کے کپتان جوس بٹلر کی ٹیم میں عدم موجودگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک بہت بڑے کھلاڑی ہیں اور ان کا ٹیم کے ساتھ نہ ہونا یقیناً انگلینڈ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
ول جیکس نے کوچ کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کی یہ خواہش ہے کہ میدان میں مخالف ٹیم پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جائے اور تمام کھلاڑی اسی پلان کے تحت میدان میں اتر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس تین ملکی سیریز کے فائنل کے موقع پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے مقامی سطح پر کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔





اپنی رائے دیں