لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت کو پیدا نہیں ہونے دیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پٹرول پمپس پر ایندھن کے حصول کے لیے کبھی لمبی قطاریں نہیں لگیں اور نہ ہی توانائی کے مسائل کی وجہ سے ملک میں امن و امن کی صورتحال پر کوئی منفی اثر پڑا۔ ان کے مطابق حکومت نے خطے میں جاری تنازعات کے باوجود توانائی کی خریداری اور فراہمی کے عمل کو انتہائی مؤثر انداز میں جاری رکھا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں رواں سال نومبر تک کی توانائی کی جملہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مناسب ترین انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ آنے والے سردیوں کے موسم میں بھی توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے کام جاری ہے۔
ملکی معیشت کے دیگر شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات جو ماضی میں ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ تھیں، اب بڑھ کر چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی آئی ٹی برآمدات ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی سطح کو چھو لیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود ہیں جو تین ماہ سے زائد عرصے کی درآمدات کے لیے مکمل طور پر کافی ہیں۔ ماضی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر محض دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے۔
معاشی درجہ بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال کے مہینے اپریل سے لے کر اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں رسائی کے لیے بھی حکومت نے نمایاں اور عملی اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں پرائیویٹ پلیسمنٹ کی اور پانڈا بانڈ کے اجرا کے ذریعے عالمی سرمائے کی منڈی تک اپنی رسائی بحال کی۔ اسی طرح ستمبر کے پہلے ہفتے کے دوران تین ارب یورو کے بانڈز کامیابی کے ساتھ جاری کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مطابق ان پاکستانی یورو بانڈز کے لیے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز جاری کیے گئے حجم سے دو گنا زیادہ تھے۔ ایشیا، مشرق وسطی، یورپ اور امریکا کے نامور سرمایہ کاروں نے پاکستان کے ان بانڈز میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بین الاقوامی سرمایہ کار صرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام پر ہی انحصار نہیں کر رہے بلکہ وہ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال کے مہینے اکتوبر میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔
عوام کو ریلیف کی فراہمی کے بارے میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت نے روایتی عمومی سبسڈی کے نظام کو خیرباد کہہ کر ہدفی سبسڈی دینے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ حکومتی ریلیف کا اصل فائدہ صرف اور صرف مستحق طبقے تک ہی پہنچ سکے۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور آٹھ سو سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے مالکان کے لیے خصوصی ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد منفرد افراد بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
مجموعی طور پر اس حکومتی ریلیف سے ملک کے چار سے پانچ کروڑ شہری مستفید ہوئے ہیں جو حکومت کی غریب پرور پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ملک میں مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم رکھنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گہرے نوعیت کی ساختی اصلاحات پر بھی تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ اب یہ تمام تر اصلاحات محض منصوبہ بندی کے مرحلے میں نہیں بلکہ عملی میدان میں داخل ہو چکی ہیں۔





اپنی رائے دیں