وفاقی حکومت کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے زور دیا ہے کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو وزیر اعظم ملک میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات سمیت ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم و استحکام ضروری ہے۔
وفاقی وزراء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا فرض ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔ حال ہی میں ضلع قلات اور گوادر کی تحصیل پسنی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔
ان کارروائیوں کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر وجاہت وحید نے جام شہادت نوش کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے میجر وجاہت وحید کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، جس کے باعث دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزراء نے کہا کہ صوبے میں پولیس کو جدید بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ حساس مقامات پر اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ امن و امان کی بحالی کے لیے ایک آئینی قدم ہے، جس کا مقصد صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتیں اس اقدام کو سیاسی قرار دے رہی ہیں۔ وفاقی وزراء نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے۔ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عمائدین اور مذہبی شخصیات کا کردار بھی اہم رہا ہے، جو اکثر دہشت گردوں کا ہدف بنتے رہے ہیں۔ وفاق نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔
ملک کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ لائحہ عمل اپنائے۔ قومی سلامتی کے اداروں کی قربانیاں تبھی رنگ لائیں گی جب تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں گی۔





اپنی رائے دیں