مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:17
بریکنگ
پنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہوفاقی حکومت کی جانب سے اہم افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاریوزیراعظم شہباز شریف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقات، کشمیریوں کی حمایت کے عزم کا اعادہپنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد، 10 کلو کا تھیلا دستیاب ہوگابلوچستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیپاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، ورلڈ بینک کی تشویشناک رپورٹمہمند ڈیم کی لاگت میں 666 ارب روپے تک اضافہ، منظوری کا عمل شروعمتحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، فیسیں مقررٹھٹھہ کا تاریخی مکلی قبرستان: سندھ کی تہذیب و ثقافت کا عظیم ورثہڈیانا زیادتی کیس: ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیعکراچی میں جائیدادوں پر قبضے اور جعلی وکلاء کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک
پاکستان بریکنگ نیوز

دہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراء

وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں، تمام جماعتوں کو قومی سلامتی کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

دہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراء

وفاقی حکومت کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے زور دیا ہے کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو وزیر اعظم ملک میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات سمیت ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم و استحکام ضروری ہے۔

وفاقی وزراء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا فرض ہے۔

دوسری جانب بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔ حال ہی میں ضلع قلات اور گوادر کی تحصیل پسنی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔

ان کارروائیوں کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر وجاہت وحید نے جام شہادت نوش کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔

صدر مملکت آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے میجر وجاہت وحید کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، جس کے باعث دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزراء نے کہا کہ صوبے میں پولیس کو جدید بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ حساس مقامات پر اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ امن و امان کی بحالی کے لیے ایک آئینی قدم ہے، جس کا مقصد صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعتیں اس اقدام کو سیاسی قرار دے رہی ہیں۔ وفاقی وزراء نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے۔ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عمائدین اور مذہبی شخصیات کا کردار بھی اہم رہا ہے، جو اکثر دہشت گردوں کا ہدف بنتے رہے ہیں۔ وفاق نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

ملک کی سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ لائحہ عمل اپنائے۔ قومی سلامتی کے اداروں کی قربانیاں تبھی رنگ لائیں گی جب تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں