وفاقی حکومت نے ملکی انتظامی امور کو بہتر بنانے اور مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے پولیس سروس آف پاکستان سمیت دیگر اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشنز کے مطابق، مختلف گریڈز کے افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ کچھ افسران کی خدمات صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے سپرد کی گئی ہیں۔
سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 21 کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری کامرس ڈویژن، اعجاز احمد مہیسر کی خدمات کو ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر حکومت سندھ کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
پولیس سروس کے گریڈ 20 کے افسر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) عمران یعقوب، جو اب تک تقرری کے منتظر تھے، انہیں حکومت گلگت بلتستان میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ انتظامی امور میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب، گلگت بلتستان میں تعینات پولیس سروس کے گریڈ 20 کے افسر فرخ رشید کو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جہاں انہیں مستقبل میں نئی ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔
کسٹمز سروس کے گریڈ 17 کے افسر سید عمار اختر، جو پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، ان کی خدمات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو واپس کر دی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ میں تعینات سیکشن افسر نعیم نواز کا تبادلہ کر کے انہیں بحری امور ڈویژن میں تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ تمارا خان کو پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔
تعلیمی شعبے میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت گورنمنٹ گریجویٹ کالج راولپنڈی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر مدثرہ ملک کی خدمات تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسلام آباد کے سپرد کی گئی ہیں۔
محکمہ صحت خیبرپختونخوا سے وابستہ میڈیکل افسر ڈاکٹر فائزہ مآب کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے، انہیں اب فیڈرل میڈیکل کالج اسلام آباد میں ڈیمونسٹریٹر کے طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور متعلقہ افسران کو اپنی نئی تعیناتیوں پر جلد از جلد چارج سنبھالنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقرر و تبادلے معمول کا انتظامی عمل ہیں جس کا مقصد سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور افسران کو مختلف علاقوں اور شعبوں میں تجربہ فراہم کرنا ہے۔
ان تبادلوں سے امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ محکموں میں دفتری امور کی انجام دہی میں تیزی آئے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی ڈھانچہ مزید مستحکم ہوگا۔
متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے نئے عہدوں پر تعیناتی کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ حکومتی اہداف کو بروقت حاصل کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں