اردن کے گورنری کرک کے علاقے حمود میں واقع ایک چرچ میں پیش آنے والے افسوسناک دہشت گردی کے واقعے میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 34 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز اس وقت پیش آیا جب چرچ میں ایک جنازے کی رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔
مقامی حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر چرچ کے قریب پہنچے اور عمارت میں داخل ہوتے ہی جنازے میں شریک افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں کی جانب سے کی گئی اس کارروائی نے وہاں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا جس کے دوران شرکاء اپنی جانیں بچانے کے لیے نشستوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ افراد اپنے بچوں کو اٹھا کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔
واردات کے بعد حملہ آور چرچ سے باہر نکلے اور ایک پک اپ گاڑی میں سوار ہو کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاحال کسی بھی کالعدم یا شدت پسند تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں تین مسلح افراد کو سڑک سے چرچ کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں حملہ آوروں کے ہاتھوں میں پستول نما ہتھیار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو داخلی راستے کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔
اردن کے وزیر داخلہ مازن الفرايہ نے اس واقعے کو انتہائی ہولناک قرار دیتے ہوئے اسے انتہا پسندوں کی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرک میں ہونے والی اس کارروائی کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی کارروائیوں سے اردنی عوام کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
شاہ عبداللہ دوم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ تمام اردنی باشندے شمال سے جنوب تک ایک قوم ہیں اور ان کی تقدیر مشترک ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے کرک کے ہسپتالوں کے اطراف کی سڑکوں کو سیل کر دیا ہے۔ بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔
اردن میں اس طرح کے واقعات انتہائی غیر معمولی ہیں اور اس حملے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی آبادی نے اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
سکیورٹی ایجنسیاں اب جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دہشت گردی میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔
کرک شہر میں فضا سوگوار ہے اور مقامی لوگ اس سانحے پر افسردہ ہیں۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں