مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:37
بریکنگ
پاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہزمینی حملے کی صورت میں دشمن کا قبرستان بن جائیں گے: پاسداران انقلابروس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہمغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیبافمشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحادبرفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑآر فور ممالک کا اجلاس، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہدانتوں کی صحت: صرف برش کرنا کافی نہیں، متوازن غذا کا انتخاب بھی ناگزیربولیویا میں مالک کی وفاداری میں برسوں سے اسپتال کے باہر بیٹھا مرغاپاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فلو ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہسعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین مقررپریانکا چوپڑا نے سیف علی خان کی نئی فلم سے کنارہ کشی اختیار کر لیپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیرکراچی میں گدھوں کی آڑ میں چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام
دنیا بریکنگ نیوز

اردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق

اردن کے شہر کرک میں ایک چرچ میں جاری جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہو گئے ہیں۔

اردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق

اردن کے گورنری کرک کے علاقے حمود میں واقع ایک چرچ میں پیش آنے والے افسوسناک دہشت گردی کے واقعے میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ 34 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز اس وقت پیش آیا جب چرچ میں ایک جنازے کی رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔

مقامی حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر چرچ کے قریب پہنچے اور عمارت میں داخل ہوتے ہی جنازے میں شریک افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ آوروں کی جانب سے کی گئی اس کارروائی نے وہاں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا جس کے دوران شرکاء اپنی جانیں بچانے کے لیے نشستوں کے نیچے چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ افراد اپنے بچوں کو اٹھا کر محفوظ مقامات کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔

واردات کے بعد حملہ آور چرچ سے باہر نکلے اور ایک پک اپ گاڑی میں سوار ہو کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ تاحال کسی بھی کالعدم یا شدت پسند تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں تین مسلح افراد کو سڑک سے چرچ کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں حملہ آوروں کے ہاتھوں میں پستول نما ہتھیار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو داخلی راستے کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔

اردن کے وزیر داخلہ مازن الفرايہ نے اس واقعے کو انتہائی ہولناک قرار دیتے ہوئے اسے انتہا پسندوں کی کارروائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرک میں ہونے والی اس کارروائی کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی کارروائیوں سے اردنی عوام کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

شاہ عبداللہ دوم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ تمام اردنی باشندے شمال سے جنوب تک ایک قوم ہیں اور ان کی تقدیر مشترک ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

واقعے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے کرک کے ہسپتالوں کے اطراف کی سڑکوں کو سیل کر دیا ہے۔ بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔

اردن میں اس طرح کے واقعات انتہائی غیر معمولی ہیں اور اس حملے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی آبادی نے اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

سکیورٹی ایجنسیاں اب جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دہشت گردی میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں سخت سزا دی جائے گی۔

کرک شہر میں فضا سوگوار ہے اور مقامی لوگ اس سانحے پر افسردہ ہیں۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں