پاکستان میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم اس بار ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تیار کردہ فلو ویکسین مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس صورتحال کے باعث شہریوں کو موسمی نزلہ و زکام سے بچاؤ کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملٹی نیشنل فارما کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے مابین قیمتوں کے تعین پر تنازع اس تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے تاحال نہیں مل سکی ہے، جس کی وجہ سے درآمدی عمل رکا ہوا ہے۔
ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ فلو ویکسین کی قیمتوں کا معاملہ ایک متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا گیا ہے۔ اس سے قبل وزیر خزانہ اور وزیر صحت پر مشتمل ایک کمیٹی ڈریپ کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں پر اتفاق کر چکی ہے، تاہم کابینہ کی حتمی توثیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک بھی اس معاملے پر متعدد اجلاسوں کی صدارت کر چکے ہیں تاکہ جلد از جلد ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم ایبٹ اور ہوئسٹ جیسی بڑی کمپنیاں قیمتوں میں نظرثانی کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ویکسین درآمد کرنے سے گریزاں ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان نے صورتحال پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں صرف چینی ساختہ انفلوئنزا ویکسین کے دو برانڈز 'این فلو' اور 'ویریونزا' دستیاب ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر بین الاقوامی برانڈز کی قلت برقرار ہے جس سے شہریوں کے پاس انتخاب کے مواقع محدود ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رواں سیزن کے لیے تین اسٹرینز پر مشتمل فلو ویکسین کی سفارش کی ہے۔ حکام کے مطابق چار اسٹرینز والی ویکسین کو عالمی سطح پر واپس لے لیا گیا ہے، اس لیے پاکستان میں بھی صرف منظور شدہ معیار کی ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
فارما انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں تاخیر سے نہ صرف درآمدات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ کمپنیاں حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فلو ویکسین کا بروقت استعمال بچوں، بزرگوں اور کمزور قوت مدافعت والے افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ موسم سرما کے دوران انفلوئنزا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانا صحت عامہ کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد قیمتوں کا تعین کر کے ویکسین کی سپلائی چین کو بحال کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
پاکستان میں ہر سال موسم سرما کے دوران فلو کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ صحت کے ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگر ضرورت ہو تو دستیاب چینی ساختہ ویکسین کے بارے میں اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والا ادارہ ڈریپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ قیمتیں نہ صرف کمپنیوں کے لیے قابل قبول ہوں بلکہ عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق بھی رہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا ہی اس تعطل کے خاتمے کی کلید ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچنے کے لیے فارما سیکٹر اور حکومت کے درمیان ایک مستقل میکانزم کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے ادویات کی قلت اور قیمتوں کے تنازعات کو بروقت حل کرنے میں مدد ملے گی۔
عوام کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے میں درپیش ان رکاوٹوں کو دور کرے۔ صحت کی سہولیات اور حفاظتی ٹیکوں کی بروقت فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔





اپنی رائے دیں