ملک کی سب سے بڑی قانونی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ان انتخابات کا انعقاد آئندہ ہفتے کی 29 تاریخ کو مقرر کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے قانونی برادری اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب کرے گی۔
انتخابات کے شیڈول کے مطابق پولنگ کا عمل صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوگا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ اس اہم انتخابی معرکے میں ملک بھر سے ہزاروں وکلا اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے اور امیدواروں کی کامیابی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی تیز ہو چکا ہے۔
سپریم کورٹ بار کی صدارت کے عہدے کے لیے اس بار دو سرکردہ امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ صدارتی نشست کے لیے امجد شاہ اور سردار امان اللہ خان آمنے سامنے ہیں جو وکلا برادری میں خاصے اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔
انتخابی دوڑ میں شامل امجد شاہ انڈیپنڈنٹ گروپ کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل سردار امان اللہ خان پروفیشنل گروپ کے امیدوار کے طور پر میدان میں اترے ہیں۔ دونوں امیدواروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔
انتخابات کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مرتبہ ملک بھر سے کل چار ہزار چھ سو تیس وکلا ووٹ ڈالنے کے اہل قرار دیے گئے ہیں۔ یہ تمام ووٹرز سپریم کورٹ بار کے آئندہ سال کے لیے قیادت کا انتخاب کریں گے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے وکلا کی بڑی تعداد بھی اس عمل کا حصہ ہوگی۔ لاہور میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک ہزار چار سو اٹھانو ہے جو انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدواروں کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد عاصمہ جہانگیر لائرز فورم کی جانب سے کیا گیا جس میں وکلا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تقریب میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون نے خصوصی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔ اس موقع پر صدارتی امیدوار امجد شاہ اور سیکرٹری کے امیدوار محمد عارف اعوان بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران قانونی برادری کے دیگر نمایاں رہنماؤں نے بھی شرکت کی جن میں پاکستان بار کونسل کے ممبر حفیظ الرحمن چوہدری اور وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی شامل تھے۔ رہنماؤں نے اس موقع پر وکلا کے مسائل اور بار کے وقار کو بلند کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی محسن ورک، سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جاوید اعوان، ذوالفقار علی بخاری اور خواجہ محسن عباس بھی تقریب کی رونق بڑھانے والوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن لائرز فورم لاہور کے صدر رفاقت علی ڈوگر نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان بار کونسل کے ممبر طاہر نصر اللہ وڑائچ، ایڈووکیٹ چوہدری نصیر گجر اور پنجاب بار کونسل کے سابق چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ذبیح اللہ ناگرہ بھی شریک ہوئے۔ قانونی حلقوں میں اس تقریب کو انتخابی مہم کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
لیگل ایجوکیشن کمیٹی کی چیئرپرسن سمیرا حسین، ایڈووکیٹ سونیا جدون، عثمان غنی، خالد نواز گھمن اور بیرسٹر سجاد حیدر رضوی نے بھی تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خالدہ پروین، چوہدری غلام مرتضیٰ، چوہدری امتیاز الہٰی اور خواجہ اورنگزیب سمیت بڑی تعداد میں وکلا نے تقریب میں شرکت کر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے امیدواروں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
آئندہ چند روز میں انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ جائے گی جبکہ ووٹرز اپنے ووٹ کا درست استعمال کرتے ہوئے بہترین قیادت کے انتخاب کے لیے پرعزم ہیں۔ تمام نظریں اب انتیس اکتوبر کو ہونے والی پولنگ اور اس کے نتائج پر مرکوز ہیں۔





اپنی رائے دیں