فرانس میں صحت کے حکام نے شامونڈا وائرس (Shamonda virus) کا پہلا انسانی کیس رپورٹ کیا ہے، جس نے طبی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ وائرس ماضی میں صرف کیڑوں کے ذریعے مویشیوں اور فارم کے جانوروں میں منتقل ہوتا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس وائرس کا شکار ہونے والا مریض لیون شہر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھا جہاں وہ اپنے مدافعتی نظام کی کمزوری کے باعث طبی امداد حاصل کر رہا تھا۔ اکتوبر کے اوائل میں انتقال کرنے والے اس مریض کی علامات نے ماہرین کو چونکا دیا۔
ابتدائی طبی تحقیقات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مریض کی موت سے قبل سامنے آنے والی شدید دماغی پیچیدگیاں اسی وائرس کے سبب تھیں۔ طبی ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت کیسے حاصل کر گیا۔
شامونڈا وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ پہلی بار 1960 کی دہائی میں نائیجیریا میں دریافت ہوا تھا۔ اس کے بعد سے یہ وائرس افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کے ریوڑوں میں وقتاً فوقتاً پایا جاتا رہا ہے۔
ماہرینِ وبائی امراض کا کہنا ہے کہ یہ وائرس شْمَالینبرگ (Schmallenberg) وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ مویشیوں میں یہ بیماری بخار، دودھ کی پیداوار میں کمی، اسہال اور بچوں کی پیدائشی بیماریوں کا باعث بنتی ہے جو کسانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
اس موسم گرما کے دوران یورپ کے کئی ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، کسی انسان میں اس کی منتقلی کا یہ پہلا واقعہ ہے جس نے یورپی صحت کے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور نئی تحقیق کا آغاز کیا گیا ہے۔
زرعی اور صحت کے حکام نے عوام کو تسلی دی ہے کہ عام شہریوں کے لیے اس وائرس سے فی الحال کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر کاٹنے والے چھوٹے کیڑوں کے ذریعے ہی جانوروں میں منتقل ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں میں اس وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا امکان انتہائی کم ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اور صحت کے ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
فرانسیسی حکام اب یورپ بھر میں جانوروں اور مڈجز (چھوٹے کیڑوں) پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وائرس کے رویے اور اس کی منتقلی کے ذرائع کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
یہ پیش رفت طبی سائنس کے لیے ایک اہم چیلنج ہے کیونکہ اب تک اس وائرس کو صرف جانوروں تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی طبی تنظیمیں بھی اس کیس کے بعد یورپ میں وائرس کی جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ فارم کے جانوروں کے قریب کام کرنے والے افراد کو حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ جانوروں میں کسی بھی غیر معمولی علامت کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر ویٹرنری حکام کو مطلع کرنا ضروری ہے۔
فرانسیسی حکومت نے اس معاملے پر مزید تحقیق کے لیے خصوصی میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا یہ وائرس انسانوں میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔
آنے والے دنوں میں اس وائرس کے حوالے سے مزید طبی رپورٹس متوقع ہیں جو اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا اس وائرس کے خلاف ویکسین یا دیگر حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں