سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور عراق کے وزیر خارجہ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں علاقائی صورتحال اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس گفتگو کے دوران سکیورٹی خطرات کے تناظر میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ عراقی وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں شہریوں اور اہم شہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
عراقی وزیر خارجہ نے اس بات کی مکمل یقین دہانی کرائی کہ عراق کی سرزمین کو سعودی عرب یا کسی بھی دوسرے ہمسایہ ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملوں کے لیے استعمال ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس موقع پر کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کشیدگی میں کمی لانے اور تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی۔
دونوں وزراء خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اور سفارتی سطح پر رابطوں کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور عراق کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تعاون خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور عراق کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سکیورٹی کے معاملات پر یہ ہم آہنگی علاقائی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی بدامنی کو روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس بات چیت میں دہشت گردی کے خاتمے اور سرحد پار سکیورٹی کو یقینی بنانے کے امور بھی زیر بحث آئے۔
سعودی عرب کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی پالیسی کو عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا رہا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل صرف بات چیت اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
عراق کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کو اپنی سلامتی قرار دینا دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رابطہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان سکیورٹی پارٹنرشپ کو نئی جہت دینے کا باعث بنے گا۔
دونوں وزراء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے رابطے مستقبل میں مزید مضبوط تعلقات کی راہ ہموار کریں گے۔
سعودی عرب اور عراق کے درمیان یہ سفارتی رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کو مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس پیش رفت سے خطے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پرامن ماحول کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعادہ کیا ہے۔




اپنی رائے دیں