اسلام آباد میں ایوانِ صدر کے اندر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرِ پاکستان نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا اور دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونا ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ عقائد، باہمی اعتماد اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہیں جنہیں اب اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے تعلیم، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں مالدیپ کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مالے میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت اور سکول آف میڈیسن پاکستان اور مالدیپ کی دیرینہ دوستی کی علامتیں ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ چھوٹی جزیرہ ریاستیں ماحولیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ صدر زرداری نے مالدیپ کے صدر کے پانچ ملین پودے لگانے کے اقدام کی بھرپور حمایت کی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں صدور نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
مالدیپ کے صدر کے ہمراہ آنے والے وفد میں وزیر خارجہ اریتھیشام آدم، وزیر دفاع و قومی خدمات حسن رشید، وزیر داخلہ و سلامتی علی احسان اور وزیر اقتصادی ترقی محمد سعید شامل تھے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط کو مزید تقویت دینے کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار، سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران موجود تھے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے بعد صدر آصف علی زرداری نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو اور ان کے وفد کے اعزاز میں ایک پُروقار سرکاری عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے شرکت کی۔
عشائیے میں چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے بھی شرکت کی۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان گہرے سفارتی روابط اور دوستانہ تعلقات کی عکاس تھی جس میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی موجود تھے۔
صدر آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی خیرسگالی کو تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی سطح پر تبادلوں میں اضافے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے لیے غیرمتناسب چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ صدر مملکت نے ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں مالدیپ کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کی مکمل آمادگی کا اظہار کیا۔
ملاقات میں دونوں جانب سے سفارتی کور کے نمائندوں اور پارلیمنٹیرینز نے بھی شرکت کی، جس سے اس دورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آخر میں دونوں صدور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر مشترکہ اصولوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تاریخی تعاون کو مستقبل کی نسلوں کے لیے مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا تاکہ دونوں ممالک ترقی کی راہ پر گامزن رہیں۔





اپنی رائے دیں