پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کی برآمدات میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران بہتری دیکھی گئی ہے، جس کے تحت برآمدی حجم میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا حجم 4.775 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکسٹائل کا شعبہ پاکستان کی برآمدی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں کپاس کی پیداوار سے لے کر دھاگے کی تیاری اور حتمی ملبوسات کی تیاری تک ایک وسیع تر صنعتی نیٹ ورک شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، شپنگ کے اخراجات اور خام مال کی دستیابی جیسے عوامل برآمدی حجم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے اس اضافے کو مستحکم بنانے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی درکار ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافے کے لیے ضروری ہے کہ بنگلا دیش، ویتنام اور تھائی لینڈ کی طرح زیادہ قدر والی مصنوعات (ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس) کی تیاری پر توجہ مرکوز کی جائے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق، صرف مقدار بڑھانے کے بجائے مصنوعات کے معیار اور فی یونٹ قیمت میں بہتری لانے سے ملک کو زیادہ زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے، جس سے معاشی فوائد میں مزید اضافہ ممکن ہوگا۔
دوسری جانب، اس شعبے سے وابستہ کسانوں اور مزدوروں کی مشکلات بھی ایک اہم پہلو ہیں۔ کپاس کی کاشت سے لے کر فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں تک، پیداواری عمل میں شامل افراد کے معاشی حالات میں بہتری لانا ناگزیر ہے۔
کپاس کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز، جیسے کھاد اور ادویات کی قیمتیں اور پانی کی دستیابی کے مسائل، ٹیکسٹائل کی پوری سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔ ان مسائل کے حل سے پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی ٹیکسٹائل ملز کو مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی صنعت کاروں نے اپنے یونٹس بیرون ملک منتقل کیے۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے مقامی سطح پر سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف مراعاتی پیکجز کا اعلان کیا جاتا رہا ہے، تاہم صنعت کاروں کا مطالبہ ہے کہ توانائی کے نرخوں میں کمی اور خام مال کی آسان دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہونے والا یہ 5 فیصد اضافہ اگرچہ حوصلہ افزا ہے، لیکن عالمی مسابقت میں رہنے کے لیے پاکستان کو اپنی ٹیکنالوجی اور پیداواری عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مستقبل میں برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مارکیٹ ڈائیورسفیکیشن اور نئی منڈیوں کی تلاش بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، تاکہ روایتی منڈیوں کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی پاکستانی مصنوعات کی رسائی ممکن ہو سکے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر صنعتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہا اور پیداواری لاگت میں کمی لائی گئی، تو آئندہ سہ ماہیوں میں برآمدی حجم میں مزید بہتری دیکھنے میں آئے گی، جو ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔





اپنی رائے دیں