ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی چیلنجز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملاقات کے دوران سپریم لیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو اس وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فوجی، معاشی اور نفسیاتی محاذوں پر ایک کثیر الجہتی جنگ کا سامنا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سماجی ہم آہنگی اور تمام ریاستی اداروں کے مابین بہترین تال میل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ملاقات میں پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے سپریم لیڈر نے ہدایت کی کہ قانون ساز ادارے اور حکومت عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے فوری اور پائیدار حل کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے معاشی بہتری کو قومی ترجیح قرار دیا۔
اس کے علاوہ، سپریم لیڈر نے ایران کے تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ان کے ساتھ طے شدہ معاملات کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کے اہم امور میں تسلسل برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید فعال بنانے کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے۔
ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں دشمن کے پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام کا اعتماد اور اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ حکومتی سطح پر ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سپریم لیڈر کو پارلیمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ اقدامات اور قانون سازی کے عمل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پارلیمنٹ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
ملاقات کے دوران کسی مخصوص دفاعی یا معاشی فیصلے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ تاہم، مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ ملاقات ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں مزید ہم آہنگی پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ایران میں حالیہ سیاسی و سیکیورٹی تبدیلیوں کے بعد سے سپریم لیڈر کا کردار ملکی استحکام کے لیے مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے حکومتی اداروں کو دی گئی ہدایات کو ملکی پالیسیوں کے تعین میں کلیدی سمجھا جا رہا ہے۔
ملک میں معاشی استحکام کے لیے حکومتی اور پارلیمانی سطح پر رابطے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ عوام کی مشکلات کو کم کرنا اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل کیا گیا ہے۔
خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر ایران اپنی تزویراتی شراکت داریوں کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ایران کی سفارتی کوششیں بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ معاشی پابندیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
مستقبل قریب میں ایران کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اقدامات متوقع ہیں۔ سپریم لیڈر کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں