مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:38
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریفاسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰنئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹسکراچی میں اگلے تین روز تک موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئیاحتجاج کی ناکام حکمت عملی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے، شوکت یوسفزئیفنکار کبھی اپنے کام سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، علی عظمتگندم کی وافر دستیابی، تمام صوبوں میں مؤثر اقدامات کی ہدایتوسیم کیس: چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا ملتان میں یتیم خانے کا دورہ، 16 بچے تحویل میںملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہمنصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصفمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہبیرسٹر گوہر کا پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے گریز کی ہدایتفیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اکاؤنٹ ہیکنگ کے خطرے پر اہم الرٹ جاریپشاور: اضاخیل گودام کی سیلاب زدہ گندم مضرِ صحت قرار، ذمہ داروں کی معطلی کی سفارش107 سالہ برطانوی شہری نے طویل العمری کا دلچسپ راز بتا دیا
مذہب

نئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس

بھارتی دارالحکومت میں تاریخی ریس کورس مسجد کو تجاوزات قرار دے کر نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس

نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نیا نوٹس جاری کیا گیا ہے جسے اقلیتی حقوق اور مسلم عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں پہلے ہی متعدد تاریخی مساجد کو مسمار کیا جا چکا ہے اور اب اس قدیم مقام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تاریخی مسجد کو تجاوزات قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کے بعد وہاں کے نمازیوں اور مقامی مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکام نے اس مقدس مقام کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم نامہ جاری کر رکھا ہے جس پر مختلف مذہبی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

مسجد کے امام نے حکومتی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ دعویٰ محض حقائق کے منافی اور ایک مسلم کش سازش کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار اکیس کے سرکاری سروے کے مطابق یہ تاریخی مسجد ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ عبادت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

امام مسجد کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے اس تاریخی مقام پر دباؤ بڑھانے کے لیے رواں ماہ کی سات تاریخ کو اس کے پانی اور بجلی کے کنکشنز بھی منقطع کر دیے گئے تھے۔ اس اقدام کا مقصد نمازیوں کو مشکلات میں ڈالنا اور اس قدیم اسلامی ورثے کو اس کے اصل مالکان سے محروم کرنا ہے۔

مقامی سطح پر مسجد کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں مگر امام مسجد کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بارہا تحریری درخواستیں دینے کے باوجود دہلی وقف بورڈ نے کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا۔ وقف حکام کی اس مجرمانہ خاموشی اور عدم دلچسپی پر بھی عوامی حلقوں کی طرف سے گہرے رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

معروف مذہبی تنظیم جمعیت علماء ہند نے اس کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے حکومتی سرپرستی میں ہونے والی زیادتی قرار دیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریس کورس مسجد ایک قانوناً محفوظ ورثہ ہے جسے بی جے پی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے تحت ہتھیانا چاہتی ہے۔

جمعیت علماء ہند نے اس ریاستی جبر کے خلاف بھرپور احتجاج کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ تنظیم کا یہ بھی اصرار ہے کہ مسلم عبادت گاہوں کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور کاٹے گئے بجلی و پانی کے کنکشنز بحال کیے جائیں۔

مقبوضہ کشمیر کے سرکردہ رہنما اور میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق بھی اس تاریخی مسجد کے تحفظ کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے وقف حکام کی جانب سے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ اٹھانے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت سے اہم سوال کیا ہے کہ کیا ملک بھر میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ اب یہی معمول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون کے مطابق تسلیم شدہ مساجد بھی محفوظ نہیں رہیں تو پھر دیگر مسلم اقلیتی مقامات کے تحفظ کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متنازع وقف ترمیمی ایکٹ دو ہزار پچیس دراصل بھارت میں مسلم شناخت اور اسلامی تاریخی ورثے کو مٹانے کا ایک موثر ہتھیار بن چکا ہے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد مساجد کی رجسٹریشن کے تمام اختیارات ضلعی بیوروکریسی کو سونپ دیے گئے ہیں جس سے اوقاف کی خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔

ماہرینِ امورِ حیات کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کے موجودہ دورِ اقتدار میں محض تین برس کے مختصر عرصے کے دوران آٹھ سو ساٹھ سے زائد مساجد، مدارس اور مزارات کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ ان نشانہ بننے والی تاریخی عمارتوں میں سہارنپور کی ایک سو بیس سالہ قدیم مسجد اور مہراولی کی سات سو سالہ اخوندجی مسجد بھی شامل ہیں۔

اسی طرح وارانسی کی دو سو سالہ قدیم مسجد اور اجین کی چھ سو سالہ شاہی مسجد کو بھی ہندوتوا کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سیاسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے زیرِ اثر نو ریاستوں میں لاکھوں ایکڑ پر پھیلی وقف املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی اس صورتحال پر بارہا تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقلیتوں کے خلاف جاری غیر قانونی اور انتقامی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادیوں کا احترام ہر جمہوری ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

تاریخی مساجد کے انہدام اور نوٹسز کے اس سلسلے نے بھارتی مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ریاستی جبر کو نہ روکا گیا تو ملک میں بین المذہب ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچے گا اور اقلیتوں کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔

مسلمانوں کے دینی اور تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے آواز اٹھانا ہو گی۔ ریس کورس مسجد کا یہ مقدمہ اب بھارتی اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کی بقا کی ایک بڑی علامت بنتا جا رہا ہے۔

مذہب کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں