مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:37
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلاناسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰنئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹسکراچی میں اگلے تین روز تک موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئیاحتجاج کی ناکام حکمت عملی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے، شوکت یوسفزئیفنکار کبھی اپنے کام سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، علی عظمتگندم کی وافر دستیابی، تمام صوبوں میں مؤثر اقدامات کی ہدایتوسیم کیس: چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا ملتان میں یتیم خانے کا دورہ، 16 بچے تحویل میںملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہمنصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصفمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہبیرسٹر گوہر کا پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے گریز کی ہدایتفیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اکاؤنٹ ہیکنگ کے خطرے پر اہم الرٹ جاریپشاور: اضاخیل گودام کی سیلاب زدہ گندم مضرِ صحت قرار، ذمہ داروں کی معطلی کی سفارش107 سالہ برطانوی شہری نے طویل العمری کا دلچسپ راز بتا دیاکریڈٹ کارڈز کے ذریعے اخراجات میں کمی اور کیش بیک کا حصول
کاروبار

ملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

شہر شہر اشیائے خوردونوش مہنگی ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔

ملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

ملک کے مختلف شہروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ دکانداروں اور تاجروں کی جانب سے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کیے جانے کے باعث عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر کے بیشتر حصوں میں اشیائے خور و نوش کے دام آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بظاہر بے بس نظر آ رہی ہے اور سرکاری نرخنامے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے اور بیشتر علاقوں میں یہ گیس چھ سو روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت بھی سات ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت دو سو اسی روپے مقرر ہے لیکن دکاندار ساڑھے پانچ سو روپے فی کلو تک وصول کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اس منافع خوری کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے روٹی کا حصول عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی اور لاہور میں گندم کا آٹا ایک سو نوے روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

کوئٹہ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا تین ہزار تین سو تیس روپے کا ہو چکا ہے جبکہ بلوچستان بھر میں گندم کا بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ خضدار، چاغی، واشک اور کیچ سمیت دیگر اضلاع میں پچاس کلو آٹے کی بوری آٹھ ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں صوبائی کابینہ کی منظوری کے باوجود گندم کی خریداری تاحال شروع نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پانچ لاکھ پچہتر ہزار بوریاں خریدنی تھیں لیکن تاحال ایک لاکھ بوری بھی نہیں خریدی گئی۔

کوئٹہ میں سبزیوں، گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں بھی بیس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے شہریوں کا ماہانہ بجٹ مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔

کراچی میں مرغی کا گوشت ساڑھے سات سو روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے جبکہ دالیں اور دیگر ضروری اشیاء بھی عوام کی استطاعت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

شہر قائد سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں دودھ اور گوشت کے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرانے والا کوئی پرسان حال نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں ان کی آمدنی کے ذرائع محدود اور اخراجات لامحدود ہو چکے ہیں۔

عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں من مانے اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو عام آدمی کا جینا محال ہو جائے گا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس طرح کے غیر قانونی اور بے لگام اضافے کو روکنے کے لیے سپلائی چین کو بہتر بنانا اور مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر گندم اور آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس تناظر میں عوام کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی کا سامنا ہے اور وہ حکومت سے فوری مداخلت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں