جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ جہاں مواصلات کے ذرائع میں نمایاں بہتری آئی ہے، وہیں دوسری جانب ڈیجیٹل جرائم اور آن لائن فراڈ کے خطرات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے دوران صارفین کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سے بچنے کے لیے وقت پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
اسی تناظر میں حال ہی میں ملک کے متعلقہ اداروں اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی جانب سے ایک انتہائی اہم الرٹ جاری کیا گیا ہے جس کا مقصد شہریوں کو فیس بک اور انسٹاگرام جیسے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ممکنہ ہیکنگ کے خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔
ماہرین نے اپنی رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ سائبر مجرموں کی جانب سے سوشل میڈیا صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے نئے، انتہائی پیچیدہ اور خطرناک حربے استعمال کیے جا رہے ہیں جن سے عام شہریوں کو مالی و ذاتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک غلط اور مشکوک لنک پر کلک کرنے کے نتیجے میں کسی بھی صارف کا فیس بک یا انسٹاگرام اکاؤنٹ منٹوں میں ہیک کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد ہیکرز کے لیے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
جب ایک بار کوئی اکاؤنٹ ہیکرز کے قبضے میں چلا جاتا ہے تو اس کے ذریعے نہ صرف متاثرہ شخص کا تمام ذاتی ڈیٹا، تصاویر اور پیغامات چوری ہو جاتے ہیں بلکہ اس کے دوستوں اور فیملی ممبرز کو بھی سنگین دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ہیکرز انتہائی چالاکی کے ساتھ بالکل اصلی دکھائی دینے والی جعلی ویب سائٹس اور فرضی لاگ ان پیجز تیار کرتے ہیں جہاں صارفین کو الجھا کر ان کا یوزر نیم اور پاس ورڈ چوری کر لیا جاتا ہے اور وہ نادانستہ طور پر اپنے اکاؤنٹس ہیکرز کے حوالے کر دیتے ہیں۔
اس طرح کے فراڈ کے لیے واٹس ایپ، فیس بک میسنجر اور دیگر میسجنگ ایپلی کیشنز کے ذریعے صارفین کو انتہائی پرکشش آفرز یا پھر فوری گھبراہٹ طاری کرنے والے اور ہنگامی نوعیت کے مشکوک پیغامات اور لنکس بھیجے جاتے ہیں۔
جب کوئی صارف خوف زدہ ہو کر یا لالچ میں آ کر ان لنکس پر کلک کرتا ہے تو وہ ہیکرز کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے اور مجرم اس کے پیاروں سے ایمرجنسی یا مالی امداد کے نام پر بھاری رقوم بٹورنا شروع کر دیتے ہیں۔
ان تمام سنگین خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی ماہرین اور سائبر کرائم ایجنسی نے شہریوں کے لیے چند بنیادی مگر انتہائی مؤثر ہدایات جاری کی ہیں جن پر عمل کر کے اکاؤنٹس کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے لیے ہمیشہ ایسے مضبوط پاس ورڈز کا انتخاب کرنا چاہیے جن کا اندازہ لگانا عام آدمی یا کسی سافٹ ویئر کے لیے انتہائی مشکل ہو۔
اس کے علاوہ تمام سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن یعنی دو مرحلاتی تصدیق کے نظام کو لازمی طور پر فعال کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز لاگ ان کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکےသည်။
سیکیورٹی اداروں نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی انجان، غیر مصدقہ یا مشکوک لنک پر ہرگز کلک نہ کریں اور نہ ہی کسی غیر معروف ویب سائٹ پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے لاگ ان کرنے کی کوشش کریں۔
اپنے ون ٹائم پاس ورڈ یعنی او ٹی پی اور کسی بھی قسم کے تصدیقی کوڈ کو انتہائی رازدارانہ رکھنا چاہیے اور اسے بھول کر بھی کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے تاکہ کسی بڑے مالی نقصان سے بچا جا سکےသည်။
ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عوام کی تھوڑی سی بیداری اور احتیاط ہی سائبر جرائم پیشہ افراد کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے اور ہمیں آن لائن دنیا میں ہمیشہ انتہائی محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔





اپنی رائے دیں