اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر صوبے میں قیامِ امن کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دارالحکومت میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور ملک بالخصوص صوبے کے امن و امان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کو تمام چیزوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور ملک کو ہر قسم کے عسکریت پسند عناصر سے پاک کرنے کا عزم مصمم ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں ملک کے غیور نوجوان اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت کی یہ خلوصِ نیت کوشش تھی کہ دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے پر تمام فریقین کو ایک ہی صفحے پر لایا جا سکے تاکہ ریاست مخالف عناصر کے خلاف بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کی جا سکے۔
طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے افغانستان سے متعلق ملکی پالیسی اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملات میں تعاون کرنے سے انکار کیا گیا جس کے بعد مجبوری کے تحت سخت فیصلے کرناپڑے کیونکہ صوبائی سطح پر موثر تعاون اور آہنگ کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔
ان کا یہ بھی موقف تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کبھی بھی کھل کر دہشتگردی یا اس میں ملوث عناصر کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی اور نہ ہی آئینی حلف کی مکمل پاسداری کی گئی۔ حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبائی انتظامیہ کے عدم تعاون کے رویے کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبے کے انتظامی امور کو بہتر طریقے سے چلانا اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں پہلے ہی ایک گیارہ رکنی مشاورتی کمیٹی متحرک انداز میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے جو صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی امور کی نگرانی کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے آئینی عمل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گیارہ اکتوبر کو صدارتی فرمان کے ذریعے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جسے بعد ازاں قانون کے مطابق پارلیمنٹ سے بھی توثیق کروایا گیا تاکہ اس اقدام کو مکمل آئینی اور قانونی جواز حاصل ہو سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کی خاطر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی جیسا انتہائی اقدام اٹھانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا جس سے کسی صورت گریز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دہشتگردی کے اس ناسور کے پس پردہ بیرونی عوامل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ بھارت مسلسل پاکستان کے اندرونی حالات کو خراب کرنے اور دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے میں ملوث ہے جبکہ دیگر غیر ملکی عناصر بھی کالعدم تنظیموں اور تخریب کاروں بالخصوص بی ایل اے کی اعانت کر رہے ہیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ریاست اس لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی پوری قوت کے ساتھ یہ جنگ جاری رکھے گی اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر قیمت پر خاک میں ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے دہرایا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ صوبائی سطح پر موثر تعاون کے بغیر دہشتگردی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا اس لیے وفاقی حکومت نے مجبوری کے تحت آئینی حدود میں رہتے ہوئے یہ اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو ایک پرامن اور محفوظ خطہ بنایا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور ملک دشمن عناصر کے پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں کیونکہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر صورت انجام تک پہنچائی جائے گی۔





اپنی رائے دیں