مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:17
بریکنگ
گوادر میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خاتون سمیت 10 دہشتگرد ہلاکگوادر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب کلیئرنس آپریشن، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکگوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقدہشت گرد جہاں بھی ہوں گے، سخت جواب ملے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیرراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہپورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد، دو جہاز لنگراندازکومل عزیز خان کا شوبز انڈسٹری کو مستقل خیرباد کہنے کا اعلانانٹرنیٹ پر خوشبوئیں شیئر کرنے کی جدید سینٹرونک ٹیکنالوجی تیارلاہور میں فضائی آلودگی میں کمی، ایئر کوالٹی انڈیکس 178 ریکارڈ
پاکستان

خیبرپختونخوا میں عدم تعاون پر گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا: طارق فضل چودھری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے گئے۔

خیبرپختونخوا میں عدم تعاون پر گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا: طارق فضل چودھری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر صوبے میں قیامِ امن کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے بغیر پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دارالحکومت میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور ملک بالخصوص صوبے کے امن و امان کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کو تمام چیزوں پر فوقیت دی جاتی ہے اور ملک کو ہر قسم کے عسکریت پسند عناصر سے پاک کرنے کا عزم مصمم ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں ملک کے غیور نوجوان اور سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے دوران وفاقی حکومت کی یہ خلوصِ نیت کوشش تھی کہ دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے پر تمام فریقین کو ایک ہی صفحے پر لایا جا سکے تاکہ ریاست مخالف عناصر کے خلاف بھرپور طاقت کے ساتھ کارروائی کی جا سکے۔

طارق فضل چودھری کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے افغانستان سے متعلق ملکی پالیسی اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملات میں تعاون کرنے سے انکار کیا گیا جس کے بعد مجبوری کے تحت سخت فیصلے کرناپڑے کیونکہ صوبائی سطح پر موثر تعاون اور آہنگ کے بغیر اس ناسور کا خاتمہ عملی طور پر ممکن نہیں تھا۔

ان کا یہ بھی موقف تھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کبھی بھی کھل کر دہشتگردی یا اس میں ملوث عناصر کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی اور نہ ہی آئینی حلف کی مکمل پاسداری کی گئی۔ حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبائی انتظامیہ کے عدم تعاون کے رویے کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبے کے انتظامی امور کو بہتر طریقے سے چلانا اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں پہلے ہی ایک گیارہ رکنی مشاورتی کمیٹی متحرک انداز میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے جو صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی امور کی نگرانی کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے آئینی عمل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گیارہ اکتوبر کو صدارتی فرمان کے ذریعے صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جسے بعد ازاں قانون کے مطابق پارلیمنٹ سے بھی توثیق کروایا گیا تاکہ اس اقدام کو مکمل آئینی اور قانونی جواز حاصل ہو سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں دیرپا امن کے قیام کی خاطر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی جیسا انتہائی اقدام اٹھانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا تھا جس سے کسی صورت گریز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دہشتگردی کے اس ناسور کے پس پردہ بیرونی عوامل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ بھارت مسلسل پاکستان کے اندرونی حالات کو خراب کرنے اور دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے میں ملوث ہے جبکہ دیگر غیر ملکی عناصر بھی کالعدم تنظیموں اور تخریب کاروں بالخصوص بی ایل اے کی اعانت کر رہے ہیں۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ریاست اس لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی پوری قوت کے ساتھ یہ جنگ جاری رکھے گی اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ہر قیمت پر خاک میں ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے دہرایا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ صوبائی سطح پر موثر تعاون کے بغیر دہشتگردی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا اس لیے وفاقی حکومت نے مجبوری کے تحت آئینی حدود میں رہتے ہوئے یہ اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو ایک پرامن اور محفوظ خطہ بنایا جا سکے۔

آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور ملک دشمن عناصر کے پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں کیونکہ قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر صورت انجام تک پہنچائی جائے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں