مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، چار پولیو ورکرز اغوااپ ڈیٹ: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیااپ ڈیٹ: یورپی سپر مارکیٹس کے فریزر پر سائبر حملہ، خوراک ترسیل میں خللمشرق وسطیٰ کی صورتحال، پاکستان میں آرامکو کے پیٹرول پمپس پر فروخت معطللاہور کے چلڈرن اسپتال میں چوہوں کی ویڈیو وائرل، انتظامیہ کا وضاحتی موقف سامنے آ گیاسانحہ پمز کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقررصادق محمد نے بابر اعظم کی بیٹنگ میں خامیوں کی نشاندہی کر دییوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاریاسکردو: میاں، بیوی اور دو بچوں کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتارلاہور: نوکری کا جھانسہ دے کر شادی شدہ خاتون سے زیادتی، ایک ملزم گرفتاربھارتی ٹی وی اداکار انوج ٹھاکر 33 برس کی عمر میں انتقال کر گئےامریکا اور اسرائیل کے حملے پر ایران کا طویل اور سخت ردعمل کا انتباہپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات، شکیل مسعود چیئرمین منتخبآسٹریلیا نے انگلینڈ کے خلاف ہوم وائٹ بال سیریز کے لیے اسکواڈز کا اعلان کر دیاآئرش ویمن کرکٹر ربیکا اسٹوکیل نے ڈوپنگ ضابطے کی خلاف ورزی کا اعتراف کرلیاسائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں، ناقص سیکیورٹی وجوہات ہیں: بلال بن ثاقبکراچی میں اسکول وینز میں گیس سلینڈر اور زائد طلبہ بٹھانے پر پابندی عائدپاکستان میں سونے کی قیمتوں میں دو ہزار چار سو روپے فی تولہ اضافہسندھ حکومت کا اسکول وینز میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی کا فیصلہافغان کرکٹ ٹیم نے ون ڈے رینکنگ میں چھٹی پوزیشن حاصل کر لی
لاہور

لاہور میں اے آر ٹی سسٹم نومبر کے تیسرے ہفتے میں فعال کرنے کا فیصلہ

صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید خط استوار کرنے کے لیے آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

لاہور کے باسیوں کو سفری سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کو آئندہ ماہ کے دوران آپریشنل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس جدید پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے کے آغاز سے صوبائی دارالحکومت میں آمدورفت کے نظام میں ایک نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مقررہ شیڈول کے مطابق نومبر کے تیسرے ہفتے میں اس جدید ٹرانسپورٹ سروس کا باضابطہ افتتاح کر دیا جائے گا جس کے بعد شہری اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔ انتظامیہ اور متعلقہ محکمے اس ہدف کے حصول کے لیے تمام ضروری انتظامات کو جلد از جلد حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔

اس نئی اور جدید بس سروس کے پہلے مرحلے کے لیے ایک مخصوص روٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جس پر ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں مدد ملے گی۔ یہ سروس سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کلمہ چوک سے شروع ہو کر استنبول تک کے مقررہ راستے پر اپنی خدمات فراہم کرے گی۔

اس اہم ترین ٹرانسپورٹ منصوبے کی بروقت تکمیل اور اس کے تمام امور کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی تمام تر ذمے داری صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کو سونپی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ملنے والے اس ٹاسک کے تحت صوبائی وزیر خود تمام تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس جدید ترین سسٹم کے لیے کل چھ سیٹس درکار ہیں جن کی فراہمی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ درکار سیٹس میں سے دو سیٹس کامیابی کے ساتھ چین سے سمندری راستے کے ذریعے کراچی پہنچ چکے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق چین سے موصول ہونے والے ان دونوں سیٹس کو اب زمینی راستے کے ذریعے لاہور منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی امور کو پورا کیا جائے گا۔ باقی ماندہ سیٹس بھی بہت جلد پاکستان پہنچ جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے منصوبے کی مجموعی آپریشنل لاگت چھ ارب روپے کے لگ بھگ تخمینہ لگائی گئی ہے جسے احسن طریقے سے چلانے کے لیے تمام مالی اور انتظامی امور کو طے کر لیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے اس فنانشل ماڈل کو انتہائی پائیدار قرار دیا ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پراجیکٹ طویل مدت تک بغیر کسی مالی دباؤ کے چلتا رہے، حکومت نے اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر منتقل کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے نجی شعبے کی مہارت اور سرمایہ کاری سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔

اس جدید آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کی ایک اور انتہائی نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر ایک سیٹ بیک وقت بڑی تعداد میں مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ایک سیٹ میں کل دو سو اسّی مسافر آرام سے بیٹھ کر سفر کر سکیں گے۔

اتنی بڑی مسافر گنجائش کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے بروقت اور آرام دہ سفری سہولت میسر آئے گی، جس سے پبلک ٹرانسپورٹ پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے مسائل کے تناظر میں اس پراجیکٹ کو لاہور کی ٹرانسپورٹ تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام کے چلنے سے سڑکوں پر ذاتی گاڑیوں کا رش کم ہوگا۔

متعلقہ اداروں کے اہلکار روٹ پر موجود اسٹیشنز اور سگنل سسٹمز کو اس جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے میں مصروف ہیں تاکہ جب نومبر کے تیسرے ہفتے میں سروس کا آغاز ہو تو کسی قسم کی تکنیکی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

عوامی حلقوں اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں نے اس منصوبے کے جلد آغاز کے فیصلے کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے لاہور کے شہریوں کی دیرینہ ٹرانسپورٹ مشکلات کا مستقل حل نکل آئے گا۔

حکومتی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ محکمے اور ٹھیکیدار اس منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں اور اب نگاہیں نومبر کے تیسرے ہفتے پر مرکوز ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں