لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے انعقاد کے حوالے سے اہم حکومتی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت اس سالانہ تہوار کی تاریخوں میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا بنیادی مقصد انتظامات کو بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے تفریح کے مواقع کو منظم انداز میں فراہم کرنا ہے۔ پنجاب کابینہ نے اس سلسلے میں موصول ہونے والی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب نئی تاریخوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب بسنت کا تہوار بارہ، تیرہ اور چودہ مارچ دو ہزار ستائیس کو منایا جائے گا۔ پہلے سے طے شدہ نظام اور شیڈول میں اس تبدیلی کا مقصد انتظامی امور کو احسن طریقے سے انجام دینا اور سکیورٹی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو تیاری کے لیے مناسب وقت دینا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس تہوار کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
پنجاب کابینہ کے اس فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ مقررہ تاریخوں پر اس بڑے تہوار کو پرامن طریقے سے منعقد کیا جا سکے۔ محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات وضع کریں۔ اس تہوار کے حوالے سے حکومتی سطح پر ایس او پیز بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
لاہور کی تاریخی ثقافت میں بسنت کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے جس میں شہر کے اندرون علاقوں سمیت مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ طویل عرصے تک پابندی اور تعطل کے بعد جب حکومت کی طرف سے اس تاریخی تہوار کو بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے تو عوام کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا۔ اب تاریخوں میں ردوبدل سے متعلقہ کاروباری طبقے اور بالخصوص پتنگ سازوں کو بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے بہتر وقت مل جائے گا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اس امر پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اداروں کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیموں کو بھی اس حوالے سے پیشگی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طے شدہ ضابطہ اخلاق پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ کسی کی جان و مال کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
اس تہوار کے حوالے سے لاہور کے شہریوں میں بھی زبردست جوش پایا جاتا ہے جو اس قدیم تہوار کی واپسی کے منتظر تھے اور اب نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تہوار شہر کی رونقوں کو بحال کرنے اور روایتی کھانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاجر برادری نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔
حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بسنت کے دوران تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لیے بھی چند اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں تاکہ کسی قسم کا حادثہ پیش نہ آئے۔ متعلقہ محکمے ان تمام امور کی کڑی نگرانی کریں گے اور کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں فوری کارعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ شہر کا امن و امان ہر صورت برقرار رہے۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے اس میگا ایونٹ کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک جامع پلان تیار کر رہے ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس تہوار سے لطف اندوز ہوں۔
بسنت کی تاریخوں میں تبدیلی کا یہ فیصلہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے انتظامی تعطل سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام ادارے بروقت اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ مارچ دو ہزار ستائیس میں ہونے والے اس تہوار کو شاندار طریقے سے منایا جا سکے۔ ثقافتی حلقوں نے اس حکومتی اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
لاہور میں بسنت کے تہوار کی نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد شہر بھر میں ایک بار پھر اس تہوار کی تیاریاں زیر بحث آ گئی ہیں۔ شہری اور تاجر دونوں ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں انتظامیہ اور عوام کا باہمی تعاون ہی اس تہوار کی کامیابی کی اصل ضمانت ہوگا۔


اپنی رائے دیں