حکومت پاکستان کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے سلسلے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے اس حوالے سے تازہ ترین نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں صارفین کو ایندھن کی خریداری میں کسی حد تک مالی آسانی میسر آئے گی اور مہنگائی کے مارے عوام کے لیے یہ ایک خوش آئند خبر ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں پانچ روپے سولہ پیسے کی کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں سات روپے انہتر پیسے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ مقامی منڈی کو بین الاقوامی سطح سے ہم آہنگ رکھا جا سکے۔
نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت تین سو اکیاسی روپے چودہ پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول کی قیمت نسبتاً زیادہ تھی جس میں اب یہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور عام صارفین کو اس کا براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت کمی کے بعد تین سو انانوے روپے ستائیس پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں ہونے والی یہ کمی ٹرانسپورٹ کے شعبے اور زرعی مشینری کے استعمال پر بھی اپنے اثرات مرتب کرے گی۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل حکومتی پیٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ نظام عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی روزمرہ کی قیمتوں، شپنگ کے اخراجات اور دیگر متعلقہ چارجز سے براہ راست منسلک ہوتا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں، پروڈکٹ ریٹس، پریمیم اور درآمدی اخراجات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی یہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ کے اشاریے جب نیچے آتے ہیں تو اس کا اثر ملکی سطح پر بھی صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق مقررہ وقت کے مطابق رات بارہ بجے کے بعد سے کر دیا گیا ہے جو اگلے چوبیس گھنٹوں اور آئندہ اعلان تک نافذ العمل رہیں گے۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ملک بھر کے تمام پمپوں پر نئی قیمتوں کے مطابق ہی فروخت کی جائے۔
ملکی معیشت کے اس اہم شعبے میں قیمتوں کا تعین ہر مقررہ مدت کے بعد عالمی منڈی کی معیشت اور روپے کی قدر کے تناسب سے کیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بار کی جانے والی یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عوام مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے جس کا اثر بالواسطہ طور پر دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عام آدمی کے ماہانہ بجٹ پر بوجھ کچھ حد تک کم ہوگا۔
حکومتی ذرائع کا ماننا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف دینا بھی اولین ترجیح ہے۔ اس پالیسی کے تحت جب بھی عالمی مارکیٹ میں گنجائش بنتی ہے، اس کا فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
شہریوں اور تجارتی حلقوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس کمی کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں اس قسم کے مزید اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ عوام اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کے تناسب میں مزید کمی واقع ہوگی۔
اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی پمپ مالکان زائد وصولی نہ کر سکے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی اس سلسلے میں ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قیمتوں کا تسلسل برقرار رکھیں۔
متعلقہ محکموں کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں بھی معیشت کے وسیع تر مفاد میں مناسب فیصلے کیے جا سکیں۔ اس نوعیت کے اقدامات سے تجارتی سرگرمیوں کو بھی استحکام ملتا ہے۔





اپنی رائے دیں