پاکستان اور کینیڈا کے طبی شعبے کے دو اہم ترین اداروں نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کے تبادلے کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان طبی شعبے میں نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
اوٹاوا میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا (RCPSC) کے وفود نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے طبی ماہرین کے لیے جدید ترین تعلیمی مواقع پیدا کرنا اور ادارہ جاتی استعداد کار کو بڑھانا ہے۔
پاکستانی وفد کی قیادت سی پی ایس پی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کی، جبکہ کینیڈین وفد کی سربراہی رائل کالج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر کرسٹوفر واٹلنگ نے کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر طبی تعلیم کے معیار کو عالمی سطح پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اوٹاوا میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ اس میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسز کی بہتری اور جدید طبی طریقہ کار کا تبادلہ شامل ہے تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے طبی اداروں کے درمیان ماہرین کا تبادلہ بھی کیا جائے گا تاکہ ڈاکٹروں کی تربیت کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ یہ اشتراک عمل پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ اس سے نہ صرف طبی مہارتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طبی تحقیق کے شعبے میں بھی نئے راستے کھلیں گے۔
ڈاکٹر کرسٹوفر واٹلنگ نے بھی اس تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
اس معاہدے کے اہم نکات میں طبی نصاب کی جدید کاری، امتحانی نظام میں بہتری اور ہسپتالوں میں تربیت کے معیار کو عالمی سطح پر لانا شامل ہے۔ دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مشترکہ ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد بھی کریں گے۔
پاکستان اور کینیڈا کے درمیان یہ طبی تعاون دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو بھی تقویت دے گا۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی معاہدے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں جدت لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔
سی پی ایس پی پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ہزاروں ڈاکٹروں کو ماہر سرجن اور فزیشن بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ اس اشتراک سے پاکستانی ڈاکٹروں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع ملے گا۔
دونوں اداروں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس میں آن لائن ٹریننگ سیشنز اور ریسرچ پروجیکٹس کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر اس سے مستفید ہو سکیں۔
اس موقع پر پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام نے بھی اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان طبی شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ عوام کو جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے طبی اداروں کے درمیان طویل مدتی تعلقات کی بنیاد بنے گی۔ اس سے نہ صرف طبی تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ دونوں ممالک کے ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط بھی مضبوط ہوں گے۔





اپنی رائے دیں