حافظ آباد کے نواحی علاقے کولو تارڑ میں جائیداد کے مبینہ تنازع پر ایک دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دو حقیقی بیٹوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی والد اور صلح صفائی کی غرض سے موجود ایک معزز شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اطلاعات کے مطابق اس ہولناک واردات میں مقتولین کی شناخت محمد صدیق اور نذیر احمد کے ناموں سے ہوئی ہے جو کہ ایک مقامی ڈیرے پر باہمی امور کو طے کرنے کی غرض سے موجود تھے۔
ابتدائی پولیس رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول محمد صدیق کا اپنے ہی بیٹوں قاسم اور آصف کے ساتھ کافی عرصے سے زمین کے معاملے پر سخت تنازع چلا آ رہا تھا جسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لیے علاقے کے ایک مقامی ڈیرے پر باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری تھا تاکہ کسی پرامن نتیجے تک پہنچا جا سکے۔
ملاقات کے دوران اچانک حالات کشیدہ ہو گئے اور فریقین کے درمیان تلخ کلامی نے شدید شدت اختیار کر لی جس کے بعد ملزم بیٹوں نے مبینہ طور پر طیش میں آ کر انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان قاسم اور آصف نے مبینہ طور پر تیز دھار کلہاڑیوں کے پے در پے وار کر کے اپنے ہی والد محمد صدیق کو شدید زخمی کر دیا جو موقع پر ہی گر پڑے۔
اسی دوران جھگڑے میں بیچ بچاؤ کرانے اور فریقین کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے موجود نذیر احمد پر بھی ملزمان نے کلہاڑیوں کے وحشیانہ وار کیے جس سے وہ بھی شدید زخمی ہو گئے۔
حملے کی اس سفاکانہ نوعیت کے باعث دونوں شدید زخمی افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ملزمان اس دہرے قتل کی واردات کو انجام دینے کے بعد آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اس اندوہناک دہرے قتل کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور دونوں مقتولین کی لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال روانہ کر دیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اور موقع پر موجود افراد کے بیانات کی روشنی میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مفرور ملزمان قاسم اور آصف کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تمام ممکنہ راستوں کو بند کر کے ان کی دھرپڑ کے لیے سخت ناکہ بندی بھی کر دی گئی ہے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس سفاکانہ عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
معاشرتی ماہرین اور مقامی معززین کا کہنا ہے کہ خاندانی تنازعات اور جائیداد کے مسائل کو باہمی مشاورت یا عدالتوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں اس قسم کے ہولناک سانحات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ اس تمام معاملے کے پس منظر میں موجود دیگر حقائق کا بھی احاطہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس اندوہناک جرم میں کوئی اور محرک یا فرد تو ملوث نہیں تھا۔





اپنی رائے دیں