پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے رواں برس کے دوران چھتیس ہزار سے زائد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے جس کے تحت قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں اور اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر منشیات کے ذخیرے قبضے میں لیے گئے ہیں۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے یہ اقدامات انتہائی سختی کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر چھتیس ہزار آٹھ سو نوے ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے خلاف صوبے کے مختلف تھانوں میں چھتیس ہزار اکاون مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کی سپلائی لائن کو توڑنے کے لیے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
گرفتار کیے جانے والے ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں ہیروئن، چرس، افیون اور دیگر نشئہ آور اشیاء برآمد ہوئی ہیں جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کارروائیوں کے دوران ایک ہزار پانچ سو سڑسٹھ کلوگرام سے زائد ہیروئن پولیس کے قبضے میں آئی ہے جبکہ بیس ہزار کلوگرام سے زیادہ چرس بھی ضبط کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تین سو باسٹھ کلوگرام سے زائد افیون بھی ملزمان کے پاس سے برآمد کی گئی۔
منشیات کے غیر قانونی کارخانوں اور اڈوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پانچ لاکھ اٹھائیس ہزار سے زائد لیٹر شراب بھی قبضے میں لی گئی ہے۔ پولیس نے بھنگ کے پودوں اور تیار شدہ بھنگ کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں لیٹر ممنوعہ اشیاء ضبط کی ہیں۔
لاہور ریجن میں پولیس نے سب سے زیادہ متحرک کارروائی کرتے ہوئے پانچ ہزار سے زائد منشیات فروشوں کو دبوچا ہے جہاں تقریبا پانچ ہزار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے گردونواح اور حساس علاقوں میں خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔
شیخوپورہ ریجن کے پولیس حکام نے کارروائیوں کے دوران تقریبا دو ہزار ملزمان کو گرفتار کیا ہے جبکہ گوجرانوالہ ریجن میں چار ہزار سے زائد افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا ہے۔ ان علاقوں میں منشیات کے اسمگلروں کے خلاف مقامی مخبروں کی مدد سے چھاپے مارے گئے۔
گجرات ریجن میں بھی انسداد منشیات مہم کے تحت دو ہزار آٹھ سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی ریجن میں تقریبا چوبیس سو ملزمان کو دبوچا گیا ہے۔ سرگودھا اور فیصل آباد کے اضلاع میں بھی پولیس نے نمایاں کارروائیاں کی ہیں۔
سرگودھا ریجن سے چودہ سو سے زائد اور فیصل آباد ریجن سے پانچ ہزار چھ سو سے زائد منشیات فروشوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو کہ صوبے کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ فیصل آباد میں منشیات کے بڑے ڈیلروں کے خلاف متعدد کامیاب چھاپے مارے گئے۔
جنوبی پنجاب کے ریجنز میں بھی پولیس نے بھرپور کارروائیاں کی ہیں جہاں ملتان ریجن سے چار ہزار چھ سو سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ساہیوال ریجن میں دو ہزار سے زائد جبکہ ڈیرہ غازی خان ریجن میں چھبیس سو سے زائد افراد قانون کی گرفت میں آئے۔
بہاولپور ریجن میں بھی منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا جہاں تین ہزار سات سو سے زائد ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ اس لعنت کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ منشیات کے سوداگرووں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ عدالتوں میں ان مقدمات کی جلد از جلد سماعت کے لیے بھی قانونی کارروائی کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو قرار واقع سزائیں مل سکیں۔





اپنی رائے دیں