قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے انتظامی امور میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایڈرین ہیملٹن کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نامزد کر دیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل سلام ایئر کے سی ای او کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
ایڈرین ہیملٹن کا انتخاب کمرشل ایوی ایشن مینجمنٹ میں ان کے طویل اور گراں قدر تجربے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی تقرری سے قومی ایئرلائن کے کاروباری ماڈل اور آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
پی آئی اے کے چیئرمین نے ادارے کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران نئے سی ای او کا تعارف ایئرلائن کے تمام شعبہ جات کے سربراہان سے کرایا۔ اس موقع پر انہیں ادارے کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے اور چیلنجز سے آگاہ کیا گیا۔
تقرری کے بعد چیئرمین پی آئی اے نے ایڈرین ہیملٹن کو ایئرلائن کے ہیڈ کوارٹر کا تفصیلی دورہ بھی کرایا۔ اس دورے کا مقصد انہیں پی آئی اے کے مختلف آپریشنل مراکز اور ورکنگ کلچر سے براہ راست متعارف کروانا تھا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں سنبھال سکیں۔
ذرائع کے مطابق، پی آئی اے کے موجودہ سربراہ عامر حیات آئندہ چند ہفتوں تک نئے سی ای او کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اس عبوری مدت کا مقصد ذمہ داریوں کی منتقلی کے عمل کو ہموار بنانا ہے تاکہ ادارے کے امور میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ایڈرین ہیملٹن کا تجربہ پی آئی اے کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں ان کی مہارت کو دیکھتے ہوئے ادارے کے اندر مثبت تبدیلیوں کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔
پی آئی اے کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں مالی استحکام اور سروس کے معیار کو بہتر بنانا سرفہرست ہے۔ نئے سی ای او کی تعیناتی کے بعد ادارے کی انتظامیہ اب ایک نئے وژن کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری اور اصلاحات کا عمل کافی عرصے سے زیر بحث رہا ہے۔ اس تناظر میں ایک تجربہ کار پروفیشنل کی بطور سی ای او تعیناتی کو ادارے کی تنظیم نو کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایڈرین ہیملٹن کی قیادت میں پی آئی اے اپنی پروازوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اس سے قبل وہ سلام ایئر میں اپنی کارکردگی سے خود کو منوا چکے ہیں۔
ادارے کے ملازمین اور اسٹیک ہولڈرز بھی اس تبدیلی کو امید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک مستحکم قیادت کی موجودگی میں پی آئی اے کے لیے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے مواقع روشن ہو سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں نئے سی ای او کی جانب سے پی آئی اے کی بہتری کے لیے نئے لائحہ عمل اور پالیسیوں کا اعلان متوقع ہے۔ ان پالیسیوں کا بنیادی مقصد ادارے کو منافع بخش بنانا اور مسافروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
پی آئی اے کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ قومی ایئرلائن کو ایک جدید اور فعال ادارہ بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔ اس حوالے سے ایڈرین ہیملٹن کا تجربہ کلیدی کردار ادا کرے گا۔
یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کا ایوی ایشن سیکٹر عالمی سطح پر مسابقت کے نئے دور سے گزر رہا ہے۔ پی آئی اے کے لیے اب وقت ہے کہ وہ اپنی آپریشنل حکمت عملی میں جدید ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے اصولوں کو شامل کرے۔





اپنی رائے دیں