راولپنڈی میں پولیس کے ایک اہلکار کی جانب سے شہری کے ساتھ ناروا سلوک اور بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار نے شہری کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا۔
وائرل ہونے والی ویڈیو کلپ میں پولیس اہلکار کو ایک شہری کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے دوران اہلکار نے اپنے جوتے سے شہری پر حملہ کیا اور اس کے چہرے پر مارا۔ یہ واقعہ عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنا۔
ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق شہری کی تذلیل کرنے والے اہلکار کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ پولیس اہلکار کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی اہلکار کو عوام کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ کن حالات میں اہلکار نے قانون ہاتھ میں لیا اور شہری کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک روا رکھا۔
ترجمان پولیس کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ عوام کی خدمت اور تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار اہلکار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو عوام کے محافظ کے طور پر کام کرنا چاہیے نہ کہ طاقت کا غلط استعمال کرنا چاہیے۔
واقعے کے بعد پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ شہری کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دورانِ ڈیوٹی اپنے رویے میں شائستگی برقرار رکھیں۔ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا پولیس کے ضابطہ اخلاق کا لازمی حصہ ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پولیس کے رویے میں بہتری لانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے انفرادی واقعات سے پورے ادارے کی محنت پر اثر پڑتا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے۔
پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں۔ پولیس عوام کے تعاون سے ہی شہر میں امن و امان کی فضا قائم رکھ سکتی ہے۔
پولیس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا عمل شروع کر دیا ہے جو کہ قانون کی بالادستی کے لیے اہم ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس انکوائری کے نتیجے میں حقائق سامنے آئیں گے اور ذمہ دار کے خلاف مثالی سزا دی جائے گی۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو قانون شکنی کی اجازت نہیں ہوگی۔





اپنی رائے دیں