پاکستان کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ سیاست کے پرانے فارمولے اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ جدید دور کے تقاضے اب محض ماضی کے تجربات یا بند کمروں کی سودے بازی سے پورے نہیں کیے جا سکتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جو رہنما بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ رفتہ رفتہ سیاسی منظرنامے سے غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ یہ اصول ٹیکنالوجی کی طرح سیاست پر بھی مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی سیاست کو اس تبدیلی کے تناظر میں ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی دہائیوں تک اقتدار کے ایوانوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے مولانا اب ایک مختلف سیاسی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماضی میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ حکومت سازی اور اس کے تسلسل کے لیے مولانا فضل الرحمان کا کردار ناگزیر ہے، تاہم موجودہ سیاسی صورتحال نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ ان کے بغیر نظام نہیں چل سکتا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان کی ناراضی کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر شپ اور اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر مولانا کی جانب سے تنقید بلاجواز ہے۔
محسن نقوی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرنے والے رہنما اب کیوں اپنی اہمیت کھونے پر پریشان ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست کی بنیاد عوامی حمایت اور نظریاتی وابستگی پر ہونی چاہیے۔
سابق فاٹا کے اضلاع کے حوالے سے بھی محسن نقوی نے تنقید کی کہ ان علاقوں کے حقوق کے لیے آواز صرف تب کیوں اٹھائی جاتی ہے جب سیاسی مفادات متاثر ہوں۔ انہوں نے اسے اصولی سیاست کے منافی قرار دیا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ صوبے کو اس وقت محاذ آرائی کے بجائے استحکام کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت کو انتشار پھیلانے کے بجائے ریاست کا ساتھ دینا چاہیے۔
قومی سلامتی اور شہداء کی قربانیوں کے حوالے سے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر ماضی میں سخت ردعمل سامنے آ چکا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے شہداء کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔
فوجی جوانوں کی قربانیوں کو محض تنخواہ کے تناظر میں دیکھنا قومی احساسات کے منافی ہے۔ اس طرح کے بیانات کو ریاستی اداروں کی جانب سے ملکی مفاد اور بھارتی بیانیے کے برعکس قرار دیا گیا تھا۔
سیاسی رہنماؤں کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ تنقید اور قومی سلامتی کے معاملات کے درمیان فرق کو سمجھیں۔ جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے کا حق موجود ہے لیکن قومی وقار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان اپنی سیاست کو نئے دور کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا وہ عوامی مسائل کو اپنی سیاست کا مرکز بنا کر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتے ہیں؟
پاکستان کی سیاست اب اس موڑ پر ہے جہاں پرانے راستے منزل تک نہیں پہنچاتے۔ جو سیاسی جماعتیں زمینی حقائق کو نظر انداز کریں گی، وہ مستقبل میں عوامی تائید حاصل کرنے میں مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔





اپنی رائے دیں