لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پیش آنے والے قتل کے ایک اندوہناک واقعے کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے۔ کھیتوں سے ملنے والی ایک سر کٹی لاش کے کیس میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو آپس میں چچا اور بھتیجا ہیں۔
اس کیس کی تفتیش کے دوران پولیس نے جدید سائنسی خطوط پر کام کرتے ہوئے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ ڈی ایس پی انویسٹی گیشن باغبانپورہ سجاد احمد گورائیہ کی سربراہی میں پولیس کی ایک خصوصی ٹیم نے اس کارروائی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مقتول کی شناخت روبن مسیح کے نام سے ہوئی ہے جس کی لاش کچھ عرصہ قبل کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی تھی۔
ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے روبن مسیح کو چھریوں کے پے در پے وار کرکے بے دردی سے قتل کیا تھا۔ قتل کی واردات کے بعد ملزمان لاش کو کھیتوں میں پھینک کر موقع سے فرار ہو گئے تھے تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔
پولیس کی جانب سے کی گئی ابتدائی تفتیش میں قتل کی بنیادی وجہ غیرت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی حساس نوعیت کا کیس تھا جس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پولیس نے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔
تفتیشی ٹیم کے مطابق مقتول روبن مسیح نے تقریباً سولہ سے سترہ سال قبل مرکزی ملزم کی حقیقی والدہ سے شادی کی تھی۔ پولیس اس پرانی رنجش اور خاندانی تنازع کو اس واردات کا بنیادی محرک قرار دے رہی ہے جس کی بنا پر یہ قتل کیا گیا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد مختلف افراد سے پوچھ گچھ کی اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ اسی دوران چچا اور بھتیجے کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملنے پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے اس کیس کو ٹریس کرنے پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ انہوں نے ملزمان کو گرفتار کرنے والی ٹیم کے لیے تعریفی اسناد دینے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی تھی، تاہم ملزمان کی گرفتاری کے بعد علاقے کے مکینوں نے پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں جن کی روک تھام کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان بیانات کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ چالان عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ مناواں پولیس اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔





اپنی رائے دیں