مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:17
بریکنگ
سہ ملکی ون ڈے سیریز، پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر بیلسٹک میزائل حملے ناکامسندھ میں عام استعمال کی 6 ادویات کے 7 بیچز جعلی قرارپاک چین دوستی کے 75 برس، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل پاکستان پہنچیں گیملک بھر میں ایل پی جی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہافغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہپنجاب میں فلم انڈسٹری کی بحالی، جدید فلم سٹی کا افتتاح دسمبر میں ہوگاسوشل میڈیا پر راج کرتی عمر رسیدہ خواتین، کروڑوں فالوورز بنا لیےبالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور نے اتوار کے روز اپنی ورک آؤٹ روٹین شیئر کر دیلاہور کے علاقے اسلام پورہ میں کمیٹی کے پیسوں کے تنازع پر ہمسایوں کا تشدد، حاملہ خاتون کا بچہ جاں بحقلاہور میں سبزیوں کے سرکاری نرخ بے اثر، مہنگائی برقرارلاہور کے مختلف علاقوں میں کل سے بجلی کی فراہمی معطل رہے گی، لیسکو کا اعلانکراچی: ناظم آباد میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان زخمی، اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہپاکستان کشمیریوں کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے، فاروق عبداللہمسلم لیگ (ق) کے وفد کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات، ملکی صورتحال پر تبادلہ خیالچیف جسٹس امین الدین خان کا دورہ آذربائیجان، عدالتی تعاون بڑھانے پر اتفاقلاہور: مجاہد سکواڈ کی کارروائی، پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے والے 2 ملزمان گرفتارانڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان کی لاہور آنے کی خواہشکراچی: لیاقت آباد میں خاتون کے قتل کا معمہ حل، مقتولہ کا دوست گرفتاروزیراعظم شہباز شریف سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات
جرم و سزا

لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں کمیٹی کے پیسوں کے تنازع پر ہمسایوں کا تشدد، حاملہ خاتون کا بچہ جاں بحق

اسلام پورہ میں کمیٹی کی رقم کے تنازع پر ہمسایوں کے مبینہ تشدد سے آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون کا بچہ جاں بحق ہو گیا۔

لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں کمیٹی کے پیسوں کے تنازع پر ہمسایوں کا تشدد، حاملہ خاتون کا بچہ جاں بحق

لاہور کے گنجان آباد علاقے اسلام پورہ میں مالی لین دین اور کمیٹی کی رقم کے تنازع پر ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں گھریلو معاملات پر شروع ہونے والی تلخ کلامی نے ایک معصوم جان کا نقصان کر ڈالا۔ اطلاعات کے مطابق ہمسایوں کے درمیان ہونے والے اس پرتشدد واقعے کی زد میں آٹھ ماہ کی ایک حاملہ خاتون آئیں جن پر مبینہ طور پر سفاکانہ تشدد کیا گیا اور بعد ازاں ان کے ہاں ہونے والے نومولود بچے کی موت واقع ہو گئی جس پر پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

متاثرہ شہری نے اس گھناؤنے فعل اور ظلم کے خلاف فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے تھانہ اسلام پورہ میں باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے جس میں ملزمان کے خلاف سخت ترین تعزیراتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور اس پورے معاملے کی تمام زاویوں سے غیر جانبدارانہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات اور پولیس کو دی جانے والی درخواست کے مطابق متاثرہ شہری اپنی گھر کی کمیٹی کی مقررہ رقم وصول کرنے کے لیے اپنے ہمسایوں کے گھر گیا تھا تاکہ جائز حق حاصل کر سکے۔ تاہم وہاں پہنچنے پر ملزمان نے رقم کی ادائیگی کرنے اور معاملہ احسن طریقے سے سلجھانے کے بجائے درخواست گزار کے ساتھ تلخ کلامی شروع کر دی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے اور پرتشدد جھگڑے کی شکل اختیار کر لی۔

معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب جھگڑے کے دوران گھر کے دیگر افراد بھی شامل ہو گئے اور انہوں نے طیش میں آ کر نہ صرف سائل کو بلکہ اس کی معصوم حاملہ بیوی کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ متاثرہ شہری کا الزام ہے کہ ہمسایوں نے کسی قسم کے رحم کا مظاہرہ نہیں کیا اور تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو پامال کرتے ہوئے وحشیانہ طور پر میاں بیوی پر ہاتھ اٹھایا۔

متاثرہ شوہر نے پولیس کو دائر کردہ درخواست میں انتہائی ہولناک الزام عائد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دورانِ تکرار ملزمان نے اس کی آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی کے پیٹ پر جان بوجھ کر ٹانگیں ماریں۔ اس بہیمانہ تشدد اور پیٹ پر براہ راست ضرب لگنے کے باعث خاتون کی حالت موقع پر ہی غیر معمولی طور پر بگڑ گئی اور وہ شدید تکلیف کے عالم میں زمین پر گر پڑیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت پڑ گئی۔

خاتون کی نازک ترین حالت کو دیکھ کر اہل خانہ کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے خون کے گھونٹ پیتے ہوئے اپنی اہلیہ کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کرنے کا انتظام کیا۔ متاثرہ خاتون کو ہنگامی بنیادوں پر لاہور کے معروف سرکاری ہسپتال گنگا رام ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی بگڑتی ہوئی حالت کا فوری طور پر نوٹس لیا اور ہنگامی بنیادوں پر طبی اقدامات کا آغاز کیا۔

گنگا رام ہسپتال کے شعبہ حادثات اور گائنی وارڈ کے ڈاکٹروں نے خاتون کی حالت کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ماں کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر آپریشن کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ طبی ٹیم نے تمام تر خطرات کے باوجود ہنگامی حالت میں آپریشن کا عمل شروع کیا تاکہ خاتون کی زندگی کو کسی طرح محفوظ بنایا جا سکے اور مزید کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی بروقت سرجیکل مداخلت سے ماں کی جان تو خطرے سے باہر نکال لی گئی تاہم حمل کا آٹھواں مہینہ ہونے اور دورانِ حمل لگنے والی شدید اندرونی چوٹوں کے باعث پیدا ہونے والا بچہ انتہائی کمزور اور نامساعد حالات کا شکار تھا۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے اس معصوم بچے کو فوری طور پر ہسپتال کے انتہائی نگداشت کے وارڈ یعنی نرسری میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی۔

نرسری میں رکھے جانے کے باوجود شیر خوار بچہ اندرونی چوٹوں اور کمزوری کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکا اور ہسپتال کے اندر ہی دم توڑ گیا، جس کی تصدیق کے بعد والدین پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس المناک سانحے نے نہ صرف متاثرہ خاندان کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ ہسپتال میں موجود دیگر لوگوں اور پورے علاقے کے باسیوں کو بھی افسردہ کر دیا کیونکہ ایک معمولی نوعیت کا مالی تنازع اتنی بڑی انسانی المیے میں تبدیل ہو گیا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے کے مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا اور شہریوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے ان افراد کے خلاف فوری اور کڑی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اس قسم کے تشدد اور قانون شکنی کے واقعات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسی سفاکیت کا مظاہرہ کرنے کی جرات نہ ہو۔

پولیس ذرائع نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ اس پورے تنازع میں ایک معصوم بچے کی موت کا سنگین پہلو بھی شامل ہو چکا ہے اس لیے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطے کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی غرض سے عدالتی احکامات حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ میڈیکل رپورٹس حاصل کی جا سکیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق قانون کے مطابق تمام تر کارروائی مکمل کرنے کے لیے معزز عدالت سے رجوع کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاتون اور جاں بحق ہونے والے بچے کے سلسلے میں باضابطہ طور پر میڈیکل کروانے کے احکامات حاصل کیے جا سکیں۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد میڈیکل بورڈ کی رپورٹس اور ڈاکٹروں کی آراء کو بھی تفتیشی فائل کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ مقدمے کو مضبوطی کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جا سکے۔

پولیس کا اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس واقعے میں جو بھی عناصر ملوث پائے گئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ ابتدائی درخواست پر قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور جیسے جیسے میڈیکل اور تفتیشی مراحل مکمل ہوں گے، ویسے ویسے مزید دفعات اور اقدامات کو بھی قانونی عمل میں شامل کر لیا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

اس افسوسناک واقعے نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رجحان پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جہاں معمولی نوعیت کے مالی معاملات اور کمیٹی کے پیسوں جیسے روزمرہ کے تنازعات بھی اب جان لیوا حملوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ سماجی حلقوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ تنازعات کو بات چیت اور پرامن طریقوں سے حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے دردناک سانحات کی روک تھام کی جا سکے اور معاشرتی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں