لاہور کے علاقے میں پولیس کی حراست میں موجود ایک ملزم دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ صوبائی دارالحکومت کے تھانہ ڈیفنس کے علاقے میں پیش آیا جہاں ایک ملزم کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کو چیک ڈس آنر کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت امجد بشیر کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر تقریباً چالیس برس تھی۔ پولیس کا بتانا ہے کہ ملزم کو پچھلی رات حراست میں لیا گیا تھا اور وہ تھانے کی تحویل میں موجود تھا۔ گرفتاری کے بعد پولیس کی جانب سے ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جا رہی تھی کہ اچانک ملزم کی طبیعت بگڑ گئی۔
اہل خانہ نے بتایا کہ امجد بشیر دو معصوم بچوں کا باپ تھا اور اس کی ناگہانی موت پر گھر میں کہرام مچ گیا ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ رات کے وقت پولیس نے اسے حراست میں لیا تھا اور کچھ دیر بعد ہی اس کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اہل خانہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق طبیعت زیادہ خراب ہونے پر فوری طور پر ریسکیو ذرائع کو اطلاع دی گئی تاکہ بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ صبح کے وقت ریسکیو ٹیم کے ذریعے اسے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی کوشش کی۔ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔
ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق ملزم کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی ہے جسے کارڈیک اریسٹ کہا جاتا ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریض کو جب لایا گیا تو اس کی حالت انتہائی نازک تھی اور تمام تر کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہیں جا سکا۔ ڈاکٹروں نے اسپتال میں صبح کے وقت اس کی وفات کی تصدیق کر دی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق متوفی امجد بشیر ولد محمد بشیر ایک سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزم تھا اور اس کے خلاف تھانہ ڈیفنس اے میں مقدمہ درج تھا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم پہلے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھا اور اس کی طبی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دل کا مریض تھا۔ اس حوالے سے پولیس حکام نے ضروری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی طبی اور تفتیشی رپورٹ میں ملزم پر کسی بھی قسم کے تشدد کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ ملزم کی موت طبعی معلوم ہوتی ہے جو دل کی حرکت بند ہونے کے باعث ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے صورتحال کا جائزہ لیا اور معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ موت کے اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کیا جا سکے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد متوفی کی میت ورثا کے حوالے کر دی جائے گی تاکہ وہ آخری رسومات ادا کر سکیں۔
ڈیفنس سی انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں ملزم کو نامزد کیا گیا تھا اور عدالت سے وارنٹ جاری ہونے کے بعد گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ پولیس حکام کا بتانا ہے کہ اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے تھے اور تفتیش کا عمل ضابطے کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا تھا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق صبح سویرے ایمرجنسی کال موصول ہونے پر ریسکیو ٹیم فوری طور پر تھانے پہنچی تھی جہاں سے بیمار شخص کو انتہائی نگداشت کے ساتھ ہسپتال روانہ کیا گیا۔ راستے میں بھی طبی امداد دینے کی کوشش کی گئی تاکہ مریض کی حالت کو مستحکم رکھا جا سکے مگر جانبر ہونے کی تمام راہیں بند ہو چکی تھیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق امجد بشیر کو جب ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تو اس کا بلڈ پریشر اور نبض انتہائی غیر مستحکم تھے۔ شعبہ انہیٹولوجی اور کارڈیالوجی کے ماہر ڈاکٹروں نے فوری طور پر سی پی آر اور دیگر لازمی طبی طریقہ کار شروع کیے لیکن مریض پہلے ہی دم توڑ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے کچھ دیر بعد موت کی تصدیق کر دی۔
پولیس کے اعلیٰ افسران نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ تھانے کے عملے سے بھی بازپرس شروع کر دی ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حراست میں کسی بھی شخص کی جان کی حفاظت اولین ترجیح ہوتی ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
متوفی کے لواحقین اور دیگر رشتہ داروں نے اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس سارے واقعہ کی غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ گرفتاری کے بعد ایسے کون سے حالات پیش آئے جن کی وجہ سے ان کے پیارے کی حالت اتنی زیادہ بگڑ گئی۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس ہر قسم کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کے حتمی اسباب مزید واضح ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قانون کے مطابق شفاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا اور حقائق کو کسی صورت چھپایا نہیں جائے گا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد ڈیفنس کے علاقے میں خوف و ہراس اور مختلف چہ مگوئیوں کا بازار گرم ہے جہاں عام شہری اور تاجر برادری پولیس حراست میں ہونے والی اموات پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سماجی حلقوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ حراست میں موجود تمام افراد کی صحت اور سلامتی کا خیال رکھنے کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔





اپنی رائے دیں