مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:57
بریکنگ
ملتان میں زیر تعمیر پلازا کی چھت گر گئی، مزدور ملبے تلے دب گئےانسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارفکوئی مجرم اپنی جماعت کا بھی ہو تو رعایت نہیں ملے گی: مریم نوازبجلی صارفین کیلئے خوشخبری، 200 سے زائد یونٹس پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاریظالم کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا: مریم نوازکراچی میں موچکو پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک گرفتاروالد کے خلاف سنگین الزامات پر میگھن مارکل آبدیدہ ہوگئیںسی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، انفارمیشن کوریڈور عوام کو قریب لائے گا: عطا تارڑکمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس، خود حکمرانی پر زورکشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں، بھارتی تسلط کے 79 سال مکملراولپنڈی میں خاتون پر مبینہ تشدد، شوہر اور ساس سسر گرفتاررینالہ خورد: سہولت بازار میں دکانوں کی مبینہ تقسیم پر احتجاجکراچی کے ساحلی پانیوں میں 500 سے زائد ڈولفنز کا غیر معمولی اجتماعٹرائی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہخیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ: پی ٹی آئی میں سیاسی سرگرمیاں تیزنائیجیریا نے یوگنڈا کو شکست دے کر سب ریجنل ٹائٹل جیت لیاصائم ایوب سہ فریقی سیریز سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان شاملامریکا میں تین سالہ فٹبالر کی مہارت پر تنازع، پولیس طلبآئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، قومی اسکواڈ کا اعلانبلاول بھٹو کا یومِ سیاہ کشمیر پر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ
کاروبار

پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن کو 2 ارب ڈالر کا نقصان

بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو مسلسل مالی بحران کا سامنا ہے جبکہ ایئر انڈیا نے مالی دباؤ کے باعث پروازیں معطل کردی ہیں۔

پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن کو 2 ارب ڈالر کا نقصان

پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو مبینہ طور پر 2 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس سے بھارتی ایئرلائنز کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اپنی فضائی حدود 23 اپریل 2025 کو پہلگام واقعے کے بعد بھارتی طیاروں کے لیے بند کی تھی جو اب تک 18 مہینے سے مسلسل بند چلی آ رہی ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور عالمی ایوی ایشن ڈیٹا کے مطابق اس طویل بندش کے نتیجے میں بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو اب تک تقریباً 5 ہزار ارب پاکستانی روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

صرف ایئر انڈیا کو سالانہ بنیادوں پر 455 ملین ڈالر سے 591 ملین ڈالر کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس نے کمپنی کے منافع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

مالی دباؤ اور آپریشنل مشکلات کے پیش نظر ایئر انڈیا نے نومبر سے دہلی اور برمنگھم کے درمیان فضائی آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دہلی سے ویانا کی پروازیں بھی اکتوبر کے اختتام سے بند ہو رہی ہیں۔

ایئر انڈیا نے بین الاقوامی روٹس پر ٹکٹوں کی بکنگ کرنے والے تمام متعلقہ ٹریول ایجنٹس کو ٹریول ایڈوائزری جاری کرکے اس اہم فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو طویل اور متبادل فضائی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے دورانیے میں بھی 30 منٹ سے لے کر 3 گھنٹے تک کا طویل اضافہ ہو چکا ہے۔

اس موجودہ صورت حال سے تقریباً 800 ہفتہ وار بھارتی پروازیں براہ راست متاثر ہو رہی ہیں، جن میں سے 640 پروازیں صرف دہلی ایئرپورٹ سے تعلق رکھتی ہیں۔

ایئر انڈیا نے اپنے ونٹر شیڈول 2026-27 میں یورپ کے لیے اپنے فضائی نیٹ ورک کو محدود کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

اس طے شدہ منصوبے کے تحت دہلی اور ویانا کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار 4 پروازیں 31 اکتوبر سے معطل کی جا رہی ہیں، جس سے دونوں شہروں کا براہ راست فضائی رابطہ ختم ہو جائے گا۔

اسی طرح دہلی اور برمنگھم کے درمیان چلنے والی ہفتہ وار 3 پروازیں یکم نومبر سے غیر معینہ مدت کے لیے مکمل طور پر بند کر دی جا رہی ہیں، اور کوپن ہیگن کی پروازیں بھی روکی جا رہی ہیں۔

لندن گیٹ وک اور سان فرانسسکو کے لیے جانے والی پروازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کرنے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جو ایئرلائن کی مجبوری کو ظاہر کرتی ہیں۔

ایئر انڈیا کے حکام کے مطابق فضائی آپریشن کو محدود کرنے کی بڑی وجوہات میں پاکستان کی فضائی حدود کی مسلسل بندش اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بوئنگ 787 طیاروں کی مرمت اور کیبن اپ گریڈیشن کا عمل بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے طیاروں کی طے شدہ دستیابی میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستانی فضائی حدود دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بھارتی طیاروں کو اب ایران یا وسطی ایشیا کے طویل ترین راستے استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جو آپریشنل لاگت بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش نومبر تک برقرار ہے، جس کے تسلسل کے حوالے سے باقاعدہ نوٹم بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں