حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرکاری اداروں کی نجکاری کے وسیع تر پروگرام کے تحت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کا عمل ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں نجکاری کمیشن بورڈ کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئیسکو کی نجکاری کے لیے پری کوالیفائی کرنے والے فریقین کی حتمی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران نجکاری کمیشن بورڈ نے 10 قومی و بین الاقوامی فریقین کو آئیسکو کی نجکاری کے لیے اہل قرار دیا ہے۔ ان بولی دہندگان میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے معروف سرمایہ کار گروپس شامل ہیں۔ اس عمل کا بنیادی مقصد توانائی کے شعبے میں کارکردگی کو بہتر بنانا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
پری کوالیفائی ہونے والی کمپنیوں میں ترکیہ کی تین بڑی انرجی کمپنیاں، جن میں اکٹور الیکٹرک، جینویرا انرجی اور چنگیز انرجی شامل ہیں، بولی میں حصہ لیں گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی معروف کاروباری تنظیمیں جیسے اینگرو انرجی، نوواٹیکس، سیفائر فائبرز اور بیسٹ وے سیمنٹ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
مزید برآں، آرٹسٹک ملنرز، حب پاور اور حسنات برادرز کنسٹرکشن کی قیادت میں قائم کنسورشیئمز کو بھی نجکاری کے عمل کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔ ان تمام 10 فریقین کو اب ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ کمپنی کے مالی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لے سکیں۔
آئیسکو ان تین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے 'بیچ-1' کا حصہ ہے جن کی نجکاری ترجیحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، جن میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) بھی شامل ہیں۔ حکومتی سطح پر ان اداروں کی نجکاری کو معاشی اصلاحات کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
نجکاری کمیشن نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے لیے 'آرٹسٹک ملنرز' کنسورشیئم میں نئے ممبران کی شمولیت کی بھی منظوری دے دی ہے۔ آرٹسٹک ملنرز کنسورشیئم اب بیچ-1 کی تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے نجکاری عمل میں حصہ لینے کے لیے مکمل طور پر اہل ہو چکا ہے۔
اجلاس میں دیگر اہم فیصلوں کے ساتھ ساتھ زرعی ترقیاتی بینک (زیڈ ٹی بی ایل) کی نجکاری کے ٹرانزیکشن سٹرکچر اور ری سٹرکچرنگ پلان میں ضروری تبدیلیوں کی منظوری دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد بھی بینک کی بنیادی توجہ زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی مالی معاونت پر ہی مرکوز رہے گی۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کے لیے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت ڈوئچے بینک کی قیادت میں قائم کنسورشیئم کو بطور فائننشل ایڈوائزر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس حوالے سے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو معاملات کو آگے بڑھائے گی۔
حکومتِ پاکستان کا ماننا ہے کہ ان اداروں کی نجکاری سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ ان کمپنیوں کی انتظامی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری سے صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تمام پری کوالیفائیڈ کمپنیوں کو شفافیت کے اصولوں کے تحت بولی کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔ ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سرمایہ کار کمپنی کی مالی صحت کا درست اندازہ لگا سکیں۔
محمد علی کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں نجکاری کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مقررہ ٹائم لائن کے اندر ان اہم سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل مکمل کیا جائے تاکہ معاشی استحکام حاصل ہو۔
پاکستان کے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے تحت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری ایک طویل عرصے سے زیر غور تھی۔ اب جبکہ بولی دہندگان کی منظوری کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، تو توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔
نجکاری کمیشن کے حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تمام عمل بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگا۔ اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہ رہے۔





اپنی رائے دیں