پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ سحر ہاشمی نے فنکاروں کو درپیش اہم مسائل پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں ڈرامہ پروڈیوسرز کے رویے پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔
سحر ہاشمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد شوبز حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
اداکارہ نے اپنے فنی سفر کا آغاز ڈرامہ سیریل ظلم سے کیا تھا اور بہت کم عرصے میں اپنی اداکاری کی بدولت ایک نمایاں مقام بنایا ہے۔
انہیں ڈرامہ شیدائی میں شاندار کامیابی ملی تھی جس کے بعد مداحوں نے ان کے کام کو بے حد سراہا۔ اس کے علاوہ ڈرامہ زنجیریں میں شہر بانو کے کردار نے انہیں گھر گھر مقبول کر دیا۔
سحر ہاشمی بہت جلد ناظرین کو نئے آنے والے ڈرامے درِ نجات میں خوش بخت کے جوانی کے کردار میں دکھائی دیں گی۔ ان کے مداح ان کے اس نئے پراجیکٹ کا بڑی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
مگر حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے فن کی نمائش کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کے اندرونی مسائل پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکاروں کو ان کے جائز معاوضوں کی ادائیگی کے وقت سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سحر ہاشمی کے مطابق اگر کوئی اداکار یا فنکار شوٹنگ کے دوران ایک دن کی بھی تاخیر کر دے تو اسے فوراً غیر پیشہ ور قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس جب پروڈیوسرز کی جانب سے فنکاروں کے معاوضے مہینوں تک روکے رکھے جاتے ہیں تو اس پر کوئی خاص بات نہیں کی جاتی۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ معاوضے کی ادائیگی میں طویل تاخیر کو ہمیشہ اکاؤنٹس کا مسئلہ کہہ کر آسانی سے ٹال دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار شوبز سے وابستہ تمام چھوٹے بڑے فنکاروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔
ان کا یہ مؤقف ان تمام فنکاروں کی ترجمانی کرتا ہے جو خاموشی سے طویل عرصے سے اس مالی استحصال کا شکار چلے آ رہے ہیں۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے مگر اس کے پس پردہ فنکاروں کے مسائل اکثر منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں۔ سحر ہاشمی کا یہ بیان ان مسائل کے حل کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر شوبز شخصیات اور مداح بھی اس معاملے پر اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز کو فنکاروں کے مالی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔
اداکارہ کی جانب سے اٹھائے گئے اس نکتے نے ایک بار پھر انڈسٹری کے نام نہاد پروفیشنلزم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پروڈیوسرز اس تنقید کے بعد اپنے رویے میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔
فنکاروں کے حقوق کے حوالے سے اس طرح کی آوازیں اٹھنے سے امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ادائیگیوں کے نظام میں بہتری لائی جائے گی۔ سحر ہاشمی کا یہ جرات مندانہ مؤقف یقینی طور پر دیگر فنکاروں کو بھی اپنے حقوق کے لیے بولنے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔





اپنی رائے دیں