فرانس کے دارالحکومت پیرس کی ایک سیشن عدالت نے کم عمر بچوں کے جنسی استحصال اور آن لائن بلیک میلنگ کے عالمی نیٹ ورک میں ملوث انتیس سالہ بھارتی شہری روہن سندیپ رانے کو بیس برس قید کی سخت سزا سنا دی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق مجرم روہن رانے کو فرانسیسی تحقیقاتی اداروں نے سال دو ہزار اکیس میں ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف طویل قانونی کارروائی جاری رہی۔
بھارتی شہری پر بچوں کی غیر قانونی تصاویر اور ویڈیوز کی تشہیر، سنگین نوعیت کی بھتہ خوری اور نادان بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزامات ثابت ہوئے، جس پر عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔
عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس بین الاقوامی گروہ کے کارندے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کے ذریعے معصوم اور کم عمر بچوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔
یہ خطرناک نیٹ ورک بنیادی طور پر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد مغربی ممالک کے بچوں کو ہدف بناتا تھا اور انہیں بلیک میل کر کے زبردستی غیر قانونی و پرتشدد مواد بنانے پر مجبور کرتا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیٹ ورک میں شامل عناصر معصوم بچوں کی مجبوریوں اور نادانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرتے تھے اور بعد ازاں ان کے ذریعے مواد تیار کر کے پھیلاتے تھے۔
اس عالمی گروہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ تحقیقاتی کارروائی کی تھی، جس کے دوران مختلف ممالک کے سائبر کرائم سیلز نے ڈیٹا کا تبادلہ کر کے گینگ کا سراغ لگایا۔
پیرس کی عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے ایسے ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے جن سے ثابت ہوا کہ بھارتی شہری اس نیٹ ورک کے کلیدی کارندوں میں شامل تھا۔
واضح رہے کہ اس مجرمانہ گروہ کے ایک اور اہم رکن کیلب کرسٹوفر میرٹ کو اس سے قبل امریکہ میں قانون کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہے، جہاں اسے بچوں کے خلاف جرائم پر پچاس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
فرانسیسی قوانین کے تحت کم عمر بچوں کی حفاظت اور ان کے خلاف ہونے والے آن لائن جرائم کے سدباب کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر ہیں، اور اس فیصلے کو معصوموں کے تحفظ میں اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر معصوم بچوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے نشانہ بنانے والے انٹرنیشنل گروہوں کی فعال سرگرمیوں پر انسانی حقوق اور بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر سخت سیکیورٹی فلٹرز کی عدم موجودگی اور نگرانی میں غفلت کے باعث ایسے مجرمانہ عناصر کو معصوم بچوں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
فرانسیسی عدالت کے اس فیصلے کو آن لائن دنیا میں بچوں کا استحصال کرنے والے عالمی نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ سائبر سپیس کو محفوظ بنایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں