مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:16
بریکنگ
سعودی ایئرپورٹ پر حملہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان
دنیا

بھارت: الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور تحفظات میں اضافہ

بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ پر ووٹ ڈیٹا بیس میں متنازع تبدیلیوں اور دیگر ارکان کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

بھارت: الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور تحفظات میں اضافہ

بھارت میں حالیہ دنوں کے دوران الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف احتجاجی لہر میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے کمیشن کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایک مقامی جریدے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے موجودہ سربراہ نے ووٹ ڈیٹا بیس میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے معاملے پر کمیشن کے دیگر اراکین کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا۔

رپورٹ کے مطابق کمیشن کے اندرونی اراکین نے ڈیٹا بیس میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان خدشات کو بار بار رد کر دیا گیا جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں غیر قانونی ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن نے کئی ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیٹا بیس میں کی گئی تبدیلیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

بھارتی سیاست میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ تنازع نے اس ادارے کی ساکھ کو چیلنج کر دیا ہے۔

مختلف ریاستوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس میں ردوبدل کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بھارتی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ اس معاملے پر عدالتی مداخلت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی سنگین ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے آنے والے انتخابات کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

ملک بھر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو ان الزامات کا جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کے شکوک و شبہات دور ہوں۔

آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے مزید احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔ سیاسی جماعتیں اس معاملے کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اٹھانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہی ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

بھارتی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہوں، تاہم ڈیٹا بیس میں تبدیلی کا معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے زیادہ تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں